دین اور دنیا میں رابطے کی نوعیت اسلام کی نگاہ میں

اگر تورات اور انجیل پر عمل کا نتیجہ دنیوی سعادت اور دنیوی نعمتوں سے مالامال ہونا ہے تو قرآن کریم پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ اسے سے کہیں زیادہ ب
اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل کے امور میں سے ایک رہن سہن کے طور طریقوں اور مختلف سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور گھریلو امور کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، لہذا نتیجتاً دینی تعلیمات بھی ان تمام امور پر مشتمل ہیں تاکہ الہی رہنمائی کے ذریعے ان تمام شعبوں میں عقل پرورش پا سکے
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۳ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۰۲
موضوع نمبر: 315953
 
سیکولرازم کے مسئلے میں ایک بنیادی امر اس نکتے کی وضاحت ہے کہ کیا دین، دنیوی امور میں مداخلت کرتا ہے یا نہیں؟ سیکولرازم کے حامی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دین اور دنیا میں علیحدگی ہے۔ ان کی نظر میں دین کا مقصد توحید اور عبودیت کی ترویج ہے اور دنیا کی تعمیر اور دنیوی امور سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی متون اور تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے دنیا پر بھی توجہ دی ہے اور آخرت پر بھی۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے درج ذیل شواہد پیش کئے جا رہے ہیں:

الف) دین کے اہداف
متعدد آیات اور احادیث میں دین کے اہداف بیان ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں دنیوی امور پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر چند موارد درج ذیل ہیں:
آیت نمبر ۱
لَقَدْ أَرْسَلْنٰا رُسُلَنٰا بِالْبَيِّنٰاتِ وَ أَنْزَلْنٰا مَعَهُمُ اَلْكِتٰابَ وَ اَلْمِيزٰانَ لِيَقُومَ اَلنّٰاسُ بِالْقِسْطِ(سورہ حدید، آیت 25)
انبیاء بھیجے جانے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کتاب الہی کی پیروی کرتے ہوئے عدل و انصاف قائم کریں اور الہی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اجتماعی انصاف کا حصول یقینی بنائیں۔ یوں، انبیاء کے اہداف میں سے ایک انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔ مرحوم علامہ طباطبائی اس بارے میں فرماتے ہیں: "دین کی حقیقت، انسانی معاشرے کو بتدریج عدالت تک پہنچانا ہے جس کے نتیجے میں ایک انسان کی فردی زندگی بھی عدالت سے سرشار ہو جاتی ہے۔"

آیت نمبر ۲
يٰا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا اِسْتَجِيبُوا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذٰا دَعٰاكُمْ لِمٰا يُحْيِيكُمْ (سورہ انفال، آیت 24)
یہ آیہ شریفہ مومنین سے مخاطب ہو کر کہتی ہے: خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو کیونکہ وہ تمہیں ایسی چیز کی جانب بلا رہے ہیں جو تمہاری حیات کا باعث ہے۔ چونکہ اس آیہ شریفہ میں حیات کی کسی خاص قسم کا ذکر نہیں کیا گیا لہذا حیات کی تمام اقسام یعنی دنیوی، اخروی، مادی، معنوی، جسمانی، روحانی، فردی، اجتماعی وغیرہ شامل ہیں۔ انسان انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اعتدال تک پہنچتا ہے اور اعتدال انسان کی زندگی اور ترقی کا باعث ہے۔ مرحوم علامہ طباطبائی رحمہ اللہ علیہ اس بارے میں فرماتے ہیں:
"دین انسانی معاشرے کو فطرت اور خلقت کے راستے پر لاتا ہے اور اسے عدل کے تقاضوں کے مطابق آزادی اور فطری سعادت جیسی نعمت عطا کرتا ہے۔" (ترجمہ تفسیر المیزان، جلد 6، صفحہ 97)

علامہ طباطبائی ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
"دین الہی انسانی سعادت کا واحد راستہ اور انسانی زندگی کے امور کی اصلاح کرنے والا ہے۔ دین ہے جو فطرت کو فطرت کے ذریعے اصلاح کرتا ہے اور مختلف قوتوں کو طغیان کے وقت اعتدال کی حالت میں واپس لاتا ہے اور انسان کی دنیوی، اخروی، مادی اور معنوی زندگی کو منظم کرتا ہے۔" (ترجمہ تفسیر المیزان، جلد 6، صفحہ 150)

آیت نمبر ۳
وَ لَقَدْ بَعَثْنٰا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اُعْبُدُوا اَللّٰهَ وَ اِجْتَنِبُوا اَلطّٰاغُوتَ (سورہ نحل، آیت 36)
قرآن کریم بیان کر رہا ہے کہ تمام انبیاء کا نعرہ عبودیت اور طاغوت سے مقابلہ تھا۔ اسلام جو دین خاتم ہے، اسکا نتیجہ پیغام توحید کی ترویج اور عدل و انصاف پھیلانا ہے۔ یوں دنیوی امور کی انجام دہی، تمام انبیاء علیہم السلام کی رسالت کے اہداف میں شامل تھا۔ 

ب) دین کے ایجنڈے
دینی متون اور اسلامی احکام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا دائرہ دنیوی امور کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دین کا پیغام سماجی و سیاسی امور سے بے بہرہ ہو تو یہ احکام لغو اور بیہودہ ہو جائیں گے۔ ذیل میں ان احکام کی چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔ دین میں خدا، رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے خاص اولیاء کی بھرپور مادی اور معنوی اور دنیوی اور اخروی حاکمیت، ولایت اور سرپرستی ثابت کی گئی ہے۔ (سورہ مائدہ، آیات 42، 43،55؛ سورہ یوسف، آیت 40)

۲۔ دین میں حضرت داود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے بعض قدیم انبیاء کی حکومت اور خلافت ثابت کی گئی ہے۔ (سورہ نساء، آیات 58، 59؛ سورہ مائدہ، آیت 67)

۳۔ عدالتی فیصلوں اور لوگوں کے درمیان تنازعات کے حل کی ذمہ داری انبیاء الہی سے منسوب کی گئی ہے۔ (سورہ ص، آیات 20 الی 26؛ سورہ نمل، آیات 27، 28، سورہ نساء، آیت 54)

۴۔ اجتماعی اور شورائی سرگرمیوں کی دعوت دی گئی ہے۔ (سورہ نساء، آیات 58 الی 65؛ سورہ مائدہ، آیت 42؛ سورہ انبیاء، آیت 78؛ سورہ انعام، آیت 89)

۵۔ عدل کی ترویج اور ظلم و فساد کے خاتمے کو اہل ایمان کے حقیقی فرائض میں شمار کیا گیا ہے۔ (سورہ شوری، آیت 38؛ سورہ آل عمران، آیت 159)

۶۔ انسانوں کے حقوق کا احترام اور انسان کی تکریم اسلام کے سیاسی اصولوں میں شمار کی گئی ہے۔ (سورہ بقرہ، آیت 279؛ سورہ ہود، آیت 113؛ سورہ نساء، آیت 58؛ سورہ نحل، آیت 190؛ سورہ ص، آیت 28؛ سورہ حج، آیت 41)

۷۔ دین میں طاغوتی قوتوں، مستکبرین اور ظالموں کے خلاف جہاد اور مقابلے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی طرح دفاعی وسائل مہیا کرنے کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔ (سورہ اسراء، آیت 70؛ سورہ آل عمران، آیت 19؛ سورہ نساء، آیت 32)

۸۔ عزت اور سربلندی کو خدا اور اہل ایمان سے مخصوص کرتے ہوئے ہر قسم کی ذلت اور دیگر قوتوں کی اطاعت کی نفی کی گئی ہے۔ (سورہ بقرہ، آیت 218؛ سورہ تحریم، آیت 9؛ سورہ نساء، آیت 75؛ سورہ انفال، آیت 60؛ سورہ اعراف، آیت 56)

۹۔ والی (حاکم شرع) اور عوام کے متقابل حقوق کا تعین اور انہیں بیان کیا ہے۔ (سورہ منافقون، آیت 8؛ سورہ محمد، آیت 35؛ سورہ ہود، آیت 113، سورہ آل عمران، آیات 146 الی 149) 

۱۰۔ بعض صالح اور عادل سلاطین جیسے طالوت اور ذوالقرنین کی سلطنت اور حکومت کو ثابت کیا گیا ہے۔ (نہج البلاغہ، نسخہ صبحی صالح، خطبہ 216)

۱۱۔ امت اسلامی کی خیر و صلاح کے راستے میں خرچ کرنے کیلئے وسیع مالی وسائل کو ولی امر مسلمین اور اسلامی حکومت سے مخصوص کیا گیا ہے۔ (سورہ بقرہ، آیات 246، 247؛ سورہ کہف، آیات 83 و 98)

۱۲۔ دین میں اجتماعی تعلقات، اقتصادی امور، طلاق، ازدواج اور عدالتی امور کے بارے میں احکام پائے جاتے ہیں۔

ج) دین پر عمل کے نتائج اور آثار
دنیوی امور میں دین کی مداخلت اور انسانوں کی دنیا پر دین کی توجہ کے دائرہ کار کو ثابت کرنے کا ایک راستہ دینی متون یا انسانی حیات کی تاریخ میں دین کے بیان شدہ نتائج اور اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل اثرات پر غور کریں:

۱۔ برکت کا نزول
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقٰامُوا اَلتَّوْرٰاةَ وَ اَلْإِنْجِيلَ وَ مٰا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ (سورہ مائدہ، آیت 66)
"اور اگر وہ (یہود و نصاری) تورات، انجیل اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں، ان پر عمل کرتے تو خدا کی بیشمار نعمتیں ان پر نازل ہوتیں۔"
اگر تورات اور انجیل پر عمل کا نتیجہ دنیوی سعادت اور دنیوی نعمتوں سے مالامال ہونا ہے تو قرآن کریم پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ اسے سے کہیں زیادہ بہتر نکل سکتا ہے، کیونکہ قرآن میں زیادہ بہتر انداز میں ہدایت اور رہنمائی بیان کی گئی ہے۔( سورہ اسراء آیت 9) اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں اخروی سعادت کے علاوہ دنیوی سعادت پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ 

۲۔ ضروریات کی برطرفی
خداوند متعال فرماتا ہے:
"قرآن ہر شی کی وضاحت کرنے والا ہے۔" (سورہ نحل، آیت 89)
یعنی قرآن کریم ضرورت کے مسائل کے بارے میں انسان کی جہالت دور کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اخروی سعادت سے متناسب سعادت مندانہ دنیوی زندگی کا حصول انسان کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔

۳۔ عقل کی پرورش
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: 
"انبیاء اس لئے آئے تاکہ ان کی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کی عقل ترقی کر سکے۔" (نہج البلاغہ، ترجمہ فیض الاسلام، خطبہ اول)
اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل کے امور میں سے ایک رہن سہن کے طور طریقوں اور مختلف سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور گھریلو امور کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، لہذا نتیجتاً دینی تعلیمات بھی ان تمام امور پر مشتمل ہیں تاکہ الہی رہنمائی کے ذریعے ان تمام شعبوں میں عقل پرورش پا سکے۔ لہذا، دین کے اہداف، منصوبوں اور اثرات کا جائزہ لینے سے ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ دنیوی امور کی تعمیر اور ترقی اور دنیا میں انسان کی فلاح و بہبود میں دین نے مداخلت کی ہے۔

تحریر: حجت الاسلام والمسلمین داعی نژاد
Share/Save/Bookmark