دہشت گرد عام شہریوں کو غوطہ شرقی سے باہر نہیں جانے دے رہے

عام شہریوں کے باہر نکلنے کے لئے قائم کی جانے والی امن راہداری کی صورت حال کشیدہ بنی ہوئی ہے
امریکی فوجی التنف اور رقبان میں اقوام متحدہ کی انسان دوستانہ امداد کے حامل ٹرکوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور امریکہ کے یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس کے دوہرے معیار کو ثابت کرتے ہیں
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۲ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۰۹
موضوع نمبر: 315831
 
روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد عام شہریوں کو غوطہ شرقی سے باہر نہیں جانے دے رہے ہیں۔

المیادین ٹی وی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے جمعے کی رات اعلان کیا ہے کہ عام شہریوں کے باہر نکلنے کے لئے قائم کی جانے والی امن راہداری کی صورت حال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور اس طرف جانے والوں کو حملے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق شامی فوج، غوطہ شرقی کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے جبہت النصرہ دہشت گرد گروہ کے قبضے سے کئی علاقوں کو آزاد کرانے کے بعد انھیں اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

شامی فوج نے غوطہ شرقی کے علاقے میں ہیلی کاپٹروں سے ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کئے ہیں جن پر اس علاقے سے عام شہریوں کے باہر نکلنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق ان پمفلٹوں میں جو طریقے بیان کئے گئے ہیں وہ غیر فوجیوں سے متعلق ہیں تاکہ وہ غوطہ شرقی سے باہر نکلنے کے لئے امن راہداری تک پہنچ سکیں اور وہاں سے وہ الوافدین کیمپ کی طرف جا سکیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے نمائندے محسن قانعی نے کہا ہے کہ غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کی جانب سے عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے جمعے کی رات جنیوا میں ایک اجلاس میں غوطہ شرقی میں دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائی کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن راہداری کے قریب دہشت گردوں کے نشانے باز تعینات ہو گئے ہیں جو باہر نکلنے والے عام شہریوں کو اپنی فائرنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے نمائندے محسن قانعی نے کہا کہ گذشتہ سات برسوں میں ان دہشت گرد گروہوں کے حملوں اور جارحیت سے کہ جنھیں مغربی ملکوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل رہی ہے، شام میں بدامنی و عدم استحکام اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور یہ مسئلہ عالمی امن و سلامتی کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔

ادھر روس کی سلامتی کونسل کے بین الاقوامی امور کے سیکریٹری الیگزنڈر وینکوف نے شام میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں امریکہ کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں التنف اڈے میں تعینات امریکی فوجی اپنے قرب و جوار میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں جو ناقابل فہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی فوجی التنف اور رقبان میں اقوام متحدہ کی انسان دوستانہ امداد کے حامل ٹرکوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور امریکہ کے یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس کے دوہرے معیار کو ثابت کرتے ہیں۔
Share/Save/Bookmark