روس کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا

صدر پوتن نےجن ہتھیاروں کا اعلان کیا ہے وہ ان ملکوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں جو روس کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے
س معاملے کو ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ اقدام بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں ہوئے سمجھوتوں کی امریکا کے ذریعے خلاف ورزی کئے جانے کا صرف ردعمل ہے۔ امریکا پوری دنیا میں دفاعی میزائلی سسٹم پھیلا رہا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں ایٹمی قوت کا توازن خطرے میں پڑ سکتا ہے
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۲ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۰۳
موضوع نمبر: 315829
 
کریملن نے روسی صدر پوتن کی تقریر کے بارے میں مغرب کے تجزیئے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔

کریملن کے ترجمان نے مغرب کے تجزئےکو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کرےگا اور صدر پوتن نےجمعرات کو جن ہتھیاروں کے بارے میں اعلان کیا ہے وہ ان ملکوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں جو روس کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔

بہت سے مغربی ذرائع ابلاغ نے روس کے نئے ہتھیاروں کے بارے میں صدر پوتن کے بیان کو مغربی ملکوں کے لئے براہ راست خطرہ اور نئی سرد جنگ کا اعلان قراردیا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ فیڈرل پارلیمنٹ میں روسی صدرکے خطاب کی ماہیت فوجی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنے خطاب میں  کچھ نئے ہتھیاروں کے بارے میں بتایا تھا جو عالمی سطح پر ایٹمی قوت میں توازن برقرار رکھ سکتے ہیں۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے کو ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ اقدام بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں ہوئے سمجھوتوں کی امریکا کے ذریعے خلاف ورزی کئے جانے کا صرف ردعمل ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا میں دفاعی میزائلی سسٹم پھیلا رہا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں ایٹمی قوت کا توازن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ صدر پوتن کے ذریعے روس کے نئے ہتھیاروں کا تعارف رشین فیڈریشن کی فورس کی تقویت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر طاقت کے توازن کو بھی برقرار رکھے گا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے بھی امریکا کے ٹیلی ویژن چینل این بی سی سے گفتگو کے دوران اس سوال کے جواب میں کہ کیا روسی پارلیمنٹ میں ان کی تقریر نئی جنگ کا اعلان اور روس اور امریکا کے درمیان ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز ہے ؟ کہا کہ جو لوگ سرد جنگ کی بات کر رہے ہیں انہوں نےصحیح طریقے سے تجزیہ و تحلیل نہیں کیا بلکہ وہ صرف تشہیراتی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ پوتن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ اس وقت شروع ہوئی جب واشنگٹن نے اینٹی میزائلی سسٹم سے مربوط معاہدے سے خود کو الگ کرلیا۔

صدر پوتن نے روسی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس اپنے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی طرح کے ایٹمی حملے کو اپنے او پر حملہ تصور کرےگا اور وہ اس کا فورا جواب دے گا۔

انہوں نے امریکا کے میزائلی خطرات کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہ ہم نے بارہا امریکا سے کہا ہے کہ اس کا اینٹی میزائل سسٹم روس کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے لیکن واشنگٹن نے اس سلسلے میں اپنی ہی من مانی کی ہے۔

روسی صدر نے مغرب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے اب تک ہماری بات نہیں سنی اور اب غور سے ہماری بات سن لو ! روس کے پاس بےمثال اور غیر معمولی اسٹریٹیجک ہتھیار موجود ہیں اور اس کے بین براعظمی میزائل ہر طرح کے دفاعی سسٹم کو عبور کرسکتے ہیں اس لئے اب امریکا کے میزائلی سسٹم روسی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کی توانائی نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج کے نئے ہتھیار ماضی کے مقابلے میں تین اعشاریہ سات گنا زیادہ ہو گئے ہیں اور اسّی بین البراعظمی میزائل روسی فوج کے حوالے کردئے گئے ہیں اور سب کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ یہ ہتھیار پوری کامیابی کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور اس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔
Share/Save/Bookmark