آسٹریلوی سیاستدان کے توہین آمیز بیانات پر تنقید:ایران

ایک فرد کے مجرمانہ فعل سے پوری برادری اور قوم کی توہین نہیں ہونی چاہئے:
آسٹریلوی ٹی وی چینل کے امتیازی سلوک پر مبنی پروگرام کے دوران دو آسٹریلوی سیاستدانوں کی جانب سے ایرانی پناہ گزینوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۱ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۲۷
موضوع نمبر: 315493
 
آسٹریلیا میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایک بیان میں دو آسٹریلوی سیاستدانوں کی جانب سے ٹی وی پروگرام کے دوران ایرانی پناہ گزینوں کے خلاف توہین آمیز بیان دینے پر تنقید کی ہے.

ایرانی سفارتخانے کے بیان کے مطابق، آسٹریلوی ٹی وی چینل کے امتیازی سلوک پر مبنی پروگرام کے دوران دو آسٹریلوی سیاستدانوں کی جانب سے ایرانی پناہ گزینوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کے استعمال نے پر آسٹریلیا میں بسنے والی ایرانی برادری کے درمیان شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آسٹریلیا کے چینل '9News' نے 26 فروری کو اپنے پروگرام کرنٹ افیئر میں ایک ایرانی جوڑے کو دیکھایا جن کو منشیات کی ترسیل کے جرم میں سڈنی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا.

اس پروگرام کے دوران قومی متحدہ پارٹی کے سربراہ 'پالین ہانسسن' اور لیبر پارٹی کے سابق سربراہ 'مارک ولیم لیتھم' نے ایرانی پناہ گزینوں کے خلاف غلیط الفاظ استعال کئے اور الزام لگایا کہ ایران مجرموں کے تبادلے کے لئے تعاون نہیں کرتا.

ایرانی سفارتخانے نے آسٹریلوی سیاستدانوں کے منفی بیانات کے ردعمل میں چینل 9News کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی شہریوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے اقدامات سے گریز کرے.

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک فرد کے مجرمانہ فعل سے پوری برادری اور قوم کی توہین نہیں ہونی چاہئے. حکومت ایران نے بارہا آسٹریلوی حکام پر زور دیا ہے کہ پناہ گزینوں کے معاملے پر تعمیری مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل کیا جائے مگر آسٹریلیا کی جانب سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا.

اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں پناہ گزینوں کی واپسی ان کی مرضی ہونی چاہئے تاہم اس عمل میں کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی اور تارکین وطن کی واپسی سے پہلے ان کی جامع معلومات کی تصدیق ضروری ہے.
Share/Save/Bookmark