شام کی صورتحال اس وقت انتہائی پیچیدہ ہے

ابندیوں سے صرف روس ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ یورپی یونین کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا
ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ شام میں کشیدگی اور لڑائیوں والے علاقوں کو حکومت شام اور جھڑپوں میں الجھے فریقوں کے درمیان تعاون کے میدان میں تبدیل کیا جائے
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۵۲
موضوع نمبر: 315355
 
روس کے صدر ولادیپوتین نے شام کی صورتحال کو انتہائی پیچدہ اور دشوار قرار دیا ہے۔

ماسکو میں آسٹریا کے چانسلر سباسٹین کرٹس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتین نے کہا ہے کہ بحران شام کے حل کا دار و مدار مشکلات کے حل کے لیے تمام فریقوں کےمثبت رویّے اور دلچسپی پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ شام میں کشیدگی اور لڑائیوں والے علاقوں کو حکومت شام اور جھڑپوں میں الجھے فریقوں کے درمیان تعاون کے میدان میں تبدیل کیا جائے۔

روس کے صدر نے شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم صورتحال کو شام میں سیاسی ڈائیلاگ اور نئے آئین کی تیاری کے مرحلے کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ولادی میر پوتین نے مینسک معاہدے کو بحران یوکرین کے حل کا مناسب راستہ قرار دیا۔مشرق وسطی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے روسی صدر نے ایک بار پھر اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی ادارے کے قائدانہ کردار میں اضافے کی ضرورت ہے۔

اپنے ملک کے خلاف پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے صرف روس ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ یورپی یونین کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
Share/Save/Bookmark