روس کی امریکہ کی جانب سے شام کے سویلین علاقوں کی بمباری پر کڑی تنقید

شام میں دہشتگرد عناصر اور دیگر افراد کو ایک دوسرے الگ کرنا ترجیحی اقدام ہے. فوجی آپریشن میں دہشتگردوں کو نشانہ بنانا ہوگا:روسی مندوب
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۲۳
موضوع نمبر: 315339
 
روس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی علاقے رقہ اور دیر الزور میں امریکی اتحاد کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھیجے.

یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں تعینات روس کے مستقل مندوب 'وسیلی نیبینزیا' کی جانب سے سلامتی کونسل کی شام کے حوالے سے نشست میں خطاب کرتے ہوئے کیا گیا.

اس نشست کے دوران سربراہ اقوام متحدہ کے معاونین برائے انسانی ہمدری اور ہنگامی امداد امور نے شام کی تازہ ترین صورتحال پر رپورٹس پیش کیں.

روسی مندوب نے اقوام متحدہ کے معاونین کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ریڈ کراس اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کے لئے کردار ادا کریں.

انہوں نے شام کے متحارب گروہوں کے عناصر پر بھی زور دیا ہے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تفرقہ پھیلانے والے بیانات سے باز رہیں. اور ہمیں توقع ہے کہ ان عناصر کی حمایت کرنے والے خارجی فریق جو اس اجلاس میں بھی موجود ہیں، کی جانب سے ضروری یقین دہانی بھی کرائی جائے.

روسی مندوب نے کہا کہ شام میں دہشتگرد عناصر اور دیگر افراد کو ایک دوسرے الگ کرنا ترجیحی اقدام ہے. فوجی آپریشن میں دہشتگردوں کو نشانہ بنانا ہوگا.

انہوں نے امریکہ کی جانب سے شام کے سویلین علاقوں کی بمباری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے شام میں قیام جنگ بندی اور دہشتگردوں کے خاتمے میں ناکامی پر دیگر مغربی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا.

روسی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی بحران کا حل سیاسی طریقوں سے ممکن ہے جبکہ متنازعہ قراردادوں پر عمل کرنے سے بحرانوں کے پُرامن حل کے لئے راستہ نہیں بچے گا.
Share/Save/Bookmark