تقریب اسپیشل

برطانیہ میں پاکستان اسرائیل الائنس نامی تنظیم قائم

اسرائیل تسلیم کرو" مہم چلانے کے لئے پاکستان، اسرائیل، برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے اراکین کی رجسٹریشن کرلی گئی
نور ڈاہری کا کہنا ہے کہ " میں انگلینڈ کے ابتدائی عرصے میں دین سے بلکل الگ ہوگیا تھا اور مارکسس ازم کا سرگرم کارکن رہ چکا ہوں/ پچھلے دس سالوں میں سلفی مکتبہ فکر کے زیر اثر تقریبا ایک سو پچاس مضامین لکھ چکا ہوں"
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۳۱ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۲۱:۵۳
موضوع نمبر: 280640
 
اسرائیل کو پاکستان سے تسلیم کروانے کے لئے سخت دباو، پاکستان اسرائیل الائنس نامی تنظیم قائم

تنظیم کا بانی پاکستانی نژاد برطانوی شہری نور ڈاہری ہے، نور ڈاہری گزشتہ پانچ سال سے لندن پولیس سے وابستہ ہے اور اس وقت لندن میں مقیم ہے.
 
پاکستان میں موجود یہودی لابی یا ان کے آلہ کار پاکستان اسرائیل الائنس قائم کرنا چاہ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو امریکا کی غلامی کر رہے ہیں، سربراہ فلسطین فاونڈیشن پاکستان.
 
پاکستان سے اسرائیل کوتسلیم کروانے کے لیے اسرائیلی ایجنسیاں پاکستان اور بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہو گئی ہیں، برطانیہ میں ”پاکستان اسرائیل الائنس” کے نام سے تنظیم قائم کی گئی ہے، پاکستانی نژاد برطانوی پولیس ملازم کو سرغنہ مقرر کر دیا گیا، اس الائنس کا بانی یہودی تنظیم کا رکن اور ان کی سنٹرل کمیٹی کا ممبر بھی ہے۔

"اسرائیل تسلیم کرو" مہم چلانے کے لئے پاکستان، اسرائیل، برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے اراکین کی رجسٹریشن کرلی گئی ہے، بعض پاکستانی مذہبی رہنمائوں کا بھی ”پاکستان اسرائیل الائنس” کا حصہ بننے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے حامی فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں حماس اور الاقصی بریگیڈ کے خلاف منفی مہم چلانے لگے ہیں۔

پاکستان اسرائیل تعلقات قائم کرنے اور اسرائیل کوتسلیم کروانے کے لیے پہلی بار منظم مہم شروع کی گئی ہے، اس مہم کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اور یہودی تنظیموں کے تھنک ٹینکز ہیں، پاکستان اسرائیل الائنس کے نام سے برطانیہ میں تنظیم رجسٹرڈ کروائی گئی ہے اور اس کو برطانیہ میں غیرسرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا ہے، پاکستان اسرائیل الائنس دنیا کی واحد تنظیم ہے، جو پاکستان کے قیام کے بعد پہلی دفعہ وجود میں آئی ہے، پاکستان اور اسرائیل کی کم و بیش ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طرح کی تنظیم کو سرزمین برطانیہ میں وجود میں لایا گیا ہے۔

تنظیم کا سرغنہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری نور ڈاہری ہے، نور ڈاہری گزشتہ پانچ سال سے لندن پولیس سے وابستہ ہے اوراس وقت لندن میں مقیم ہے، نورڈاہری کا تعلق حیدرآباد سے ہے اورہ یہودی تنظیم "زائنسٹ فیڈریشن" کا اعزازی ممبر اور ان کی سنٹرل کمیٹی کا بھی رکن ہے۔

تنظیم کا سرغنہ نور ڈاہری کہتا ہے کہ "سرزمین برطانیہ ہی وہ واحد مملکت ہے، جس کی کوکھ سے دنیا میں دو ممالک ظہور پزیر ہوئے، ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل۔ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں بھائی ممالک کو ایک ساتھ ملانے کے لیے سرزمین برطانیہ میں اس طرح کی تنظیم کو وجود میں لایا جائے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد پاکستانی عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ستر سالہ دوریوں کو دور کرنا ہے، اس تنظیم کے کوئی بھی سیاسی مقاصد نہیں، بلکہ تعلیمی اور شعوری مقاصد ہیں۔ لوگوں کے دماغوں کے اندر ایک امن پسندانہ شعور اجاگر کرنا ہی اس تنظیم کی اولین ترجیح ہے۔"

نورڈاہری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ "میں یوکے کی صیہونی سینٹرل کونسل کا اعزازی ممبر بھی ہوں، میں دنیا کا پہلا پاکستانی مسلمان ہوں جن کو یہ اعزازات عطا کیے گئے ہیں، جس پر مجھے بے انتہا فخر ہے۔" نورڈاہری اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ "وہ اسرائیلی وزیراعظم کی کابینہ کے ممبران، اسرائیلی آرمی کے عہدیداران اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلی افسران سے بھی ملاقاتیں کرچکا ہے اور ان سے رابطوں میں ہے۔

اس سلسلے میں فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی مظفر ہاشمی نے تقریب نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، اس تنظیم اور اس کے بانی کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا، فلسطین کا بچہ بچہ جزبہ حریت سے سرشار ہے، جن کی تحریکوں سے خوف زدہ افراد اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "پاکستان میں موجود یہودی لابی یا ان کے آلہ کار پاکستان اسرائیل الائنس قائم کرنا چاہ رہی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو امریکا کی غلامی کر رہے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سعودی عرب اور مصر تو امریکی غلامی میں پیش پیش ہین ہی، لیکن اب پاکستان کو بھی اس جانب دھکیلا جا رہا ہے، سعودی عرب نے اسلامی ممالک کا جو اتحاد بنایا ہے وہ بھی امریکا اور اسرائیل کا آلہ کار ہے، ہماری حکومت یا حکمران، امریکا اور اسرائیل کے آگے جھک سکتے ہیں، لیکن ہم کسی قیمت پر مظلوم فلسطینیوں کے خون کا سودا نہیں کریں گے، نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا اور نہ آئندہ کریں گے۔"

پاکستان اسرائیل الائنس کی بنیاد کچھ عرصہ قبل رکھی گئی تھی، جس کا مقصد پاکستانیوں اور اسرائیلیوں کو آپس میں قریب لانا اور پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات قائم کروانا ہیں، یہ الائنس ابتدائی مرحلے میں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور مستقبل میں الیکٹرانک میڈیا کو بھی بروئے کار لانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے رابطے کرکے انہیں اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات کی حمایت کریں۔

نورڈاہری نے اس حوالے سے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکے کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہا ہے، جہاں عوام سے ملاقاتیں اور اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ تعلیمی اداروں کے دورے کی شکل میں ہوگا۔

اس کے بعد وہ اپنے منصوبے کے مطابق دوسرے ملکوں کے دورے پر جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیل الائنس نے چند ماہ قبل پاکستان میں رکنیت سازی شروع کی تھی، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے باقاعدہ ایک فارم بھی تقسیم کیا گیا تھا، الائنس کے ذرائع کے مطابق اسے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جس میں سے چھان بین کے بعد صرف چھتیس ارکان پاکستان سے چنے گئے، جو اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کر رہے ہیں، اس تنظیم کے زیادہ تر ممبران ادب اور لکھنے لکھانے کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

اسی طرح اسرائیل سے بھی چھتیس لوگ ممبر بنائے گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایک مشہور پانی پتی قاری صاحب کے صاحبزادے جو عالم دین ہیں، وہ بھی اس کے ممبر بنے ہیں۔ پاکستان اسرائیل الائنس کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ یہودیت کی بنیاد ایک مخصوص اور یکساں نظریہ پر ہوئی، وہ یہ کہ یہودیوں کا اسرائیل میں رہنا ان کا بنیادی حق ہے اور اسرائیل کا اس سرزمین پر قائم ہونا جائز اور قانونی حق ہے، پاکستان اسرائیل الائنس یہ تاثر دینے اور اپنے مخصوص پروپیگنڈے کے زریعے عوام کے ذہن میں یہ فکر پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان فلسطینی مسئلے پر اور اسرائیل پاک انڈیا تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ثالث کا رول بھی ادا کر سکتا ہے۔

اس الائنس کے سرغنوں کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے قریب آنے سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بطور دہشت گرد دھندلائی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دونوں ملک اس سے بہتر طریقے سے نمٹ کر ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ جب ہمارے فوجی جرنیلوں اور سیاسی حکمرانوں کے اسرائیل کے ساتھ ذاتی تعلقات رہے ہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کی با شعور عوام اس تعلق کو کھلے عام نہ صرف قبول کریں، بلکہ اپنے حکمرانوں پر بھی دباو ڈالیں کہ ان تعلقات کو عوامی سطح پر اجاگر کرکے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کیا جائے، جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے ملک کی خوشحالی اور کامیابی ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان اسرائیل الائنس کے سرغنہ نور ڈاہری نے انگلینڈ کے آکسفورڈ کالج سے کرمنل سائیکالوجی میں ڈپلومہ کیا اور میری لینڈ یونیورسٹی- امریکا اور آئی سی ٹی- اسرائیل سے انسداد دہشت گردی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کا تعلق پاکستان کے صوبے سندھ سے ہے، جبکہ زندگی کا بہت عرصہ حیدرآباد شہر میں گذرا ہے۔ وہ اپنے مذہب کے بارے میں کہتا ہے کہ "میں نے ہر مکتبہ فکر کی کتابوں کا بغور تحقیقی جائزہ لیا ہے اور ان کی جماعتوں سے وابستگی بھی رہی ہے۔ چاروں سنی اماموں (حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی) شیعہ کے اماموں اور ان کے فقہ جعفریہ پر بھی تحقیق کی ہوئی ہے، اس کے علاوہ قادیانی کمیونٹی کی بھی بہت ساری کتابیں زیر نظر گزری ہیں۔"

وہ مزید کہتا ہے کہ "چاروں صحیح احادیث کی کتابیں بشمول اصول کافی، الرسائل اور شیعہ مکتبہ فکر کی نہج البلاغہ میری لائبریری کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ بریلوی اور دیوبندی (تبلیغی جماعت) کے زیر اثر رہ کر کافی کام کیا ہے ۔ مگر اس وقت جس مکتبہ فکر پر کاربند ہوں اس پر زندگی کے آخری وقت تک کاربند رہوں گا، وہ ہے "سلفی مکتبہ فکر" جس کو پاکستان میں اہل حدیث کہا جاتا ہے۔  پچھلے دس سالوں میں اسلامی افکار اور اسی مکتبہ فکر کے زیر اثر تقریبا ایک سو پچاس مضامین لکھ چکا ہوں۔"

نور ڈاہری کا کہنا ہے کہ " میں انگلینڈ کے ابتدائی عرصے میں دین سے بلکل الگ ہوگیا تھا اور مارکسس ازم کا سرگرم کارکن رہ چکا ہوں، اس کی وجہ پاکستان کے سیاسی مذہبی جماعتوں سے بیزاری اور ان کے ایک دوسرے پر کافر کے فتوے لگاکر قتل عام جیسے قبیح اعمال ہیں۔

نورڈاہری نے پاکستان کے وجود پر بھی سوال اٹھا دیا ہے، وہ اپنے ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ دنیا کہتی ہے کہ اسرائیل نے فلسطین پر اپنا قبضہ کیا ہے، حالانکہ یہ بلکل غلط ہے، فلسطین اس وقت مملکت برطانیہ کے زیر تسلط تھا اور اس کا پورا نام برٹش مینڈیٹ فلسطین تھا۔ اور وہ برطانیہ نے ایک معاہدہ کے طور پر دونوں قوموں کو یکساں تقسیم کیا تھا، اب اگر فلسطینی اس تقسیم سے خوش نہیں تھے تو اس میں اسرائیل کا کیا قصور؟ ہندوستان کی تقسیم بھی تو ہندووں کو ناپسند تھی اور وہ بھی تو پاکستان کے مخالف تھے، اسی وجہ سے تقسیم کے بعد خود ہندووں نے اسی جرم میں گاندھی کا قتل کیا تھا۔ اب اگر پاکستان ناجائز نہیں تو اسرائیل بھی ناجائز نہیں ہوسکتا۔ یہ ہی وجوہات تھیں کہ میں نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا۔

پاکستان اسرائیل الائنس کے سرغنہ نے پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات پر سنگین قسم کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف پاکستان کی امریکی حکومت کے سامنے نمائندگی کی، بلکہ کئی لڑاکا جہاز اور روکے ہوئے پیسے بھی دلوائے اور تو اور امریکہ سے نئی ملٹری ٹیکنالوجی بھی پاکستان کو دلوائی۔ اس نے ملک کے سابق وزرائے اعظم پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف اور بے نظیر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔
 
Share/Save/Bookmark