حرکت اسلامی کے سربراہ کو ضرب وشتم اور قتل کی دھمکی

اسرائیلی پولیس نے ان پر قرآن کی ایسی آیات کی تدریس کا الزام لگایا ہے کہ جو ان کے مطابق صیہونیوں کو مشتعل کرنے کا سبب بنی ہیں
برطانیہ کی عرب حقوق بشر کی تنظیم کے مطابق شیخ صلاح کی گرفتاری ایک وحشیانہ عمل ہے انہیں قید میں ضرب وشتم کا سامنا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سرگرمیاں مسالمت آمیز اور قانونی تھی
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۹ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۵۶
موضوع نمبر: 280288
 
فلسطین کے حرکت اسلامی کے سربراہ شیخ رائد صلاح جو کہ مقبوضیہ فلسطین میں چند روزسے اسرائیل کی قید میں ہیں، قید خانے میں انھیں ضرب و شتم کاسامنا ہے اور انہیں قتل کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
  
تقریب، خبر رساں ایجنسی﴿تنا﴾کے مطابق، شیخ صلاح کے وکلاء میں سے ایک نے کہا ہے کہ، اسرائیلی قید میں انہیں تشدد کا سامنا ہے۔

انکے وکیل خالد زبارقہ کا کہنا ہے اسرائیل کی پولیس نے کچھ دن قید میں رکھنے کے بعد انکی قید میں توثیق کردی ہے، ان کی رہائی اتوار کےدن متوقع ہے۔

صیہونی فورسز نے انہیں گذشتہ منگل کو ان گھر سے گرفتار کیا تھا اور اب بھی شیخ صلاح ان کی قید میں ہیں۔

برطانیہ کی  عرب حقوق بشر کی تنظیم کے مطابق شیخ صلاح کی گرفتاری ایک وحشیانہ عمل ہے انہیں قید میں ضرب وشتم کا سامنا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سرگرمیاں مسالمت آمیز اور قانونی تھی اور شیخ اب تک انکے مقابلے میں استقامت سے کام لے رہے ہیں۔

تنظیم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے شیخ صلاح کے قتل کئے جانے کے خدشے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

شیخ صلاح نے اپنی حراست کو فلسطین کے خلاف ناجائز تصرف شمار کیا ہے، جبکہ اسرائیلی پولیس نے ان پر قرآن کی ایسی آیات کی تدریس  کا الزام لگایا ہے کہ جو ان کے مطابق صیہونیوں کو مشتعل کرنے کا سبب بنی ہیں۔
Share/Save/Bookmark