تاریخ شائع کریں2022 15 August گھنٹہ 12:46
خبر کا کوڈ : 561541

یورپ کو پچھلے 5 دہائیوں میں سب سے بُری خشک سالی کا سامنا ہوگا

نیز جرمن وفاقی انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی نے کہا ہے کہ دریائے رائن جو نقل و حمل، پانی دینے، بجلی کی پیداوار اور پینے کیلئے استعمال ہوتی ہے، میں پانی کی سطح آئندہ ہفتے میں کم ہوجاتی ہے۔
یورپ کو پچھلے 5 دہائیوں میں سب سے بُری خشک سالی کا سامنا ہوگا
گارڈین اخبار نے ایک رپورٹ میں یورپی براعظم کے دریاؤں کے خشک ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے سائنسدانوں کے مطابق وراننگ دی ہے کہ یورپ کو پچھلے 5 دہائیوں میں سب سے بُری خشک سالی کا سامنا ہوگا۔

اس برطانوی اخبار نے یورپی دریاؤں کی ابتر صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دریائے لوار کے کچھ حصوں میں پیدل بھی چل سکتے ہیں؛ فرانس کے سب سے طویل دریا کبھی اتنی سکون سے بہہ نہیں رہے تھے۔ اور دریائے رائن میں بہت جلد کشتیوں کی آمد و رفت ناممکن ہوگی؛ اٹلی میں دریائے پو کی گہرائی، معمول کی حد سے 2 میٹر کم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں زراعتی مصنوعات تباہ ہونے جار رہی ہیں؛ سربیا میں بھی دریائے ڈینیوب کی ڈرلنگ ہو رہی ہے۔

گارڈین، پورے یورپ کی صورتحال کو اس طرح وضاحت کرتا ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے بڑے سے بڑے دریاؤں میں پانی کی بہاؤ کم ہوتی رہتی ہے اور پانی کی سپلائی میں کمی اور بھاؤ میں اضافے کے پیش نظر، یورپ کے صنعت، توانائی، فوڈ کی تیاری اور نقل و حمل کے شعبوں کو ابتر صورتحال کا سامنا ہوگا۔

چونکہ رواں عیسوی سال کے گرمیوں کے موسم میں پورے یورپ میں گرمی کی شدید لہریں آئیں تو موسم بہار اور سردیوں میں بھی بارشوں کی کمی اور خشکی کا امکان بہت زیادہ ہے؛ اس برطانوی اخبار نے ان مسائل نے یورپ کی اہم آبی گزرگاہوں کو معمول کی مقدار سے کم سے کم بھر دیا اور تیزی سے زیادہ گرم کر دیا۔

یورپ کے پورے مغربی، مرکزی اور جنوبی علاقوں میں تقریبا دو مہینوں کے دوران، عدم بارش اور مستقبل میں عدم بارش کی پیش گوئی کے مطابق، محکمہ موسیمات کے تجزیہ کاروں نے گارڈین کو بتایا ہے کہ یہ پچھلے 500 سالوں کے دوران، یورپ کی سب سے بُری خسک سالی ہوسکتی ہے۔

یورپی کمیشن کی مشترکہ تحقیقاتی مرکز کے اہلکار "آندرا تورتی" نے کہا کہ آئندہ تین مہینوں کے دوران، خشک سالی کا سلسلہ جاری رہنے کا بہت خطرہ ہے۔

نیز جرمن وفاقی انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی نے کہا ہے کہ دریائے رائن جو نقل و حمل، پانی دینے، بجلی کی پیداوار اور پینے کیلئے استعمال ہوتی ہے، میں پانی کی سطح آئندہ ہفتے میں کم ہوجاتی ہے۔

گارڈین کے مطابق، دریائے رائن میں آبی نقل و حمل کی رکاوٹ، جرمنی سمیت یورپ کی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ تجزیہ کراوں نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2018 میں دریائے رائن کی سرگرمی کی 6 مہینوں کی معطلی، تقریبا 2۔4 ارب یورو کے اخراجات کی سبب بنی اور پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ، یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اس سال جرمنی کی 2۔0 اقتصادی ترقی، اس ملک پر بہت بڑے اخراجات عائد کرسکتا ہے۔

نیز اٹلی کے سل سے طویل ترین دریا یعنی پو جو خشک ہوتا رہتا ہے، میں پانی کی بہاؤ معمول کی سطح کے دسیوں حصے تک کم ہوگئی ہے اور معمول سے دو میٹر کے نیچے ہے۔ وادی پو میں اٹلی کے 30 سے 40 فیصد تک زراعتی مصنوعات کی پیداوار کی جاتی ہے لیکن چاول کے کاشتکاروں نے وراننگ دی ہے کہ ان کی مصنوعات میں 60 فیصد کی تباہی کا امکان ہے۔

دریاؤں میں پانی کی سطح میں کمی اور درجہ حرارات میں اضفہ؛ بہت سے جانوروں کیلئے تباہ کن ہوگا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران، باویریا میں واقع دریائے ڈینیوب کی درجہ حرارت 25 سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی تھی اور یہ روان مہینے کے اوسط تک 26۔5 سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آکسیجن کی مقدار 6 حصے فی ملین سے نیچے گرتی ہے اور سالمن کے لیے مہلک ہے۔

2 ہزار 850 کلومیڑ کی لمبائی پر مشتمل ڈینیوب دربا میں نقل و حمل کو شدید مشکلات کا شکار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے سربیا، رومانیہ اور بلغاریہ کے عہدیداروں نے نقل و حمل کیلئے دریا کی ڈرلنگ سے گہرے چینلز کی تیاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہاں تک کہ ناروے میں بھی بجلی کی 90 فیصد کی پیداوار پن بجلی پر منحصر ہے؛ تو اس نے کہا ہے کہ پانی کے وسائل میں کمی کی وجہ سے اسے برآمدات کو کم کرنا پڑتا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcba8bs8rhb0sp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس