تاریخ شائع کریں2021 9 December گھنٹہ 12:29
خبر کا کوڈ : 529988

وباکےدوران بھی بین الاقوامی اسلحے کی انڈسٹری خوشحال

سپری کی رپورٹ کے مطابق اسلحے کی برآمدات میں امریکا سب سے آگے ہے۔ سال 2020 میں 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے جو حصہ ڈالا  اُس کا 54 فیصد یعنی 285 ارب ڈالر امریکا کی 41 کمپنیوں کے حصے میں آیا۔ گزشتہ 3 برس سے اس رینکنگ میں پہلی پانچ پوزیشنز پر موجود کمپنیوں کا تعلق بھی امریکا سے ہے۔
وباکےدوران بھی بین الاقوامی اسلحے کی انڈسٹری خوشحال
تحریر:شفقنا اردو

وباکےدوران بھی بین الاقوامی اسلحے کی انڈسٹری خوشحال رہی ہے اور 2020 کی نسبت اس سال ہتھیاروں کی خریدوفروخت بلند سطح تک پہنچ گئی۔ سٹاک ہوم انٹرنیشل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 100 بڑے اسلحے کے تاجروں نے قریبا 531 بلین ڈالر یعنی قریبا 470 بلین یورو کا اسلحہ اور اس انڈسٹری سے متعلق خدمات کا سودا کیا جس کا مطلب 2019 کی نسبت امسال اس امر میں 3۔1 فیصد اضافہ ہے۔ یہ مسلسل چھٹا سال ہے جس میں اسلحے کی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے تاہم گزشتہ تین برسوں میں یہ اضافہ غیر معمولی رہا ہے۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق اسلحے کی برآمدات میں امریکا سب سے آگے ہے۔ سال 2020 میں 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے جو حصہ ڈالا  اُس کا 54 فیصد یعنی 285 ارب ڈالر امریکا کی 41 کمپنیوں کے حصے میں آیا۔ گزشتہ 3 برس سے اس رینکنگ میں پہلی پانچ پوزیشنز پر موجود کمپنیوں کا تعلق بھی امریکا سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اسلحے کا دوسرا بڑا تاجر چین ہے جس کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدنی 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 66 اعشاریہ 8 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ برطانیہ 37.5 ارب ڈالر کارپوریٹ آمدنی کیساتھ تیسرے نمبر پر ہے جس کی سات بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی کمائی میں ایک سال کے دوران 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب روسی اسلحے کی فروخت میں مسلسل تیسرے برس بھی کمی آئی جہان 9 کمپنیوں کی کمائی 28.2 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ یورپ کے مختلف ممالک کی 26 بڑی کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 109 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔جبکہ اسرائیلی، بھارتی، جاپانی اور جنوبی کوریائی کمپنیوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سپری کے ریسرچر الیگزینڈر مارکسٹینر کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر کی جی ڈی پی 2020 میں 1۔3 فیصد تک گر گئی مگر بین الاقوامی اسلحے کی خرید وفروخت میں 3۔1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسلحے کی پیداوار پر کرونا وبا اور کرونا کی وجہ سے معاشی زبوں حالی کا قطع اثر نہیں ہوا۔ امسال بہار میں شائع ہونے والی سپری کی ایک اور رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ دنیا فوجی ہتھیار خریدنے میں پہلے سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہے اورکروناوبا کے دوران لوگوں کو درپیش چیلنجز اور سخت معاشی حالات کو مکمل طور پر نطر انداز کیا جارہا ہے۔

امریکہ اس دوڑ میں اول ہے جبک چین اور  برطانیہ بالترتیب امریکہ کے پیچھے ہیں۔ 2018 سے اب تک امریکہ کی پانچ اسلحہ ساز ۔ کمپنیاں پہلے نمبر پر ہیں۔ امریکہ کی 41کمپنیوں نے جو کہ اسلحے کی 100 بڑی کمپنیوں میں  شامل ہیں نے کل 285 بلین ڈالر جو کہ کہ اسلحے کی کل خرید کا 54 فیصد کمایاہے ۔ ان میں سب سے اہم امریکا کی بڑی ہتھیار ساز کمپنی لاک ہیڈ سب سے نمایاں ہیں، جس نے اٹھاون بلین کا اسلحہ تیار کیا اور بیچا۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جس نے 13 فیصد منافع کمایا جبکہ تیسرے نمبر پر برطانیہ ہے جس نے اس حوالے سے 1۔7 فیصد منافع کمایا ہے جب کہ روس اس حوالے سے چوتھے نمبر ہے اور ماضی کی نسبت خسارے میں ہے۔ 2017 میں سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے ملک کا درجہ حاصل کرنے کے بعد اب روس مسلسل زوال کا شکار ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ ریاست کے اسلحے کے پروگرام کا 2020 میں اختتم پزیر ہونا اور دوسرا وبا کے اثرات ہیں۔

جرمن اسلحے کی فروخت میں اضافہ

جرمنی نے اسلحے کی فروخت میں 3۔1 فیصد تک اضافہ دیکھا تاہم صف اول کی 100 کمپنیوں میں شامل چار جرمن گروپس کے درمیاں واضح اختلافات ہیں ۔ گرین پیس ڈس آرمامنٹ کے ماہر الیگزنڈر لرز کا کہان ہے کہ جرمنی کی چارو کمپنیاں 2019 کی نسبت آگے جارہی ہیں اوریہ انتہائی خوفناک بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی وفاقی حکومت کے لیے سب سے اہم کام اب جرمن اسلحہ ساز کمپنیوں کی اسلحے کی آمر حکومتوں کو فروخت کو روکنا ہے جس سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ لرز کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ تمام باتوں کے باوجود اسلحہ کےانڈسٹری نے اپنی فروخت میں اضافہ کیا ہے جب کہ جرمن سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ صحت، ماحولیاتی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے اخراجات میں اضافہ کریں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان اسلحہ ساز کمپنیوں کو سیاسی قوتوں کا سہارا بھی حاصل ہے۔ بون انٹرنیشنل سینٹر برائے مطالعاتِ تنازعات کے پولیٹیکل سائنٹسٹ کارکوس بایر کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار بنانے والی کمپنیاں بعض معاملات میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ انہوں نے ایک امریکی غیر حکومتی تنظیم ‘اوپن سیکرٹ‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، جس میں بیان کیا گیا کہ آرمز کمپنیاں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ الیگزانڈرا مارکشٹائنر کا کہنا ہے کہ بعض امریکی کمپنیوں کو وبا کے دوران بھی امریکا کی وزارتِ خارجہ کی مخصوص حمایت بھی حاصل رہی ہے۔

سپری بنیادی طور پر اسلحے کی فروخت کے حوالے سے 100 بڑی کارپوریشنز پر نظر رکھتی ہے جو کہ بھارتی اسلحہ اور فوجی  خدمات فراہم کرتی ہیں۔ 2015 سے اب تک جب سے سپری نے پہلی مرتبہ چینی کمپنیوں کے اعدادوشمار کا حساب رکھنا شروع کیا تب سے اسلحے کی فروخت میں 17 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcaaonma49nuo1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس