تقريب خبررسان ايجنسی 21 Aug 2017 گھنٹہ 12:45 http://www.taghribnews.com/ur/news/280433/عراق-تلعفر-میں-فورسز-کی-پیشقدمی-جاری-چار-علاقے-آزاد -------------------------------------------------- ٹائٹل : عراق: تلعفر میں فورسز کی پیشقدمی جاری/ چار علاقے آزاد عراقی فورسز نے زمبر کے پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرلیا ہے اور مختلف سمتوں سے داعش کے خلاف پیشقدمی جاری ہے -------------------------------------------------- عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے عراقی فورسز کو گذشتہ روز تلعفر میں آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تھا متن : عراقی فورسز کی تلعفر میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور فورسز نے اب تک 4 علاقوں کو داعش کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا ہے۔ النہرینکی رپورٹ کے مطابق عراقی فورسز کی عراق کے علاقےتلعفر میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف پیشقدمی جاری ہے اور عراقی فورسز نے اب تک 4 علاقوں میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں کامیابی حاصا کی ہے۔ عراقی فورسز کے کمانڈر عبد الامیر رشید یاراللہ نے کہا ہے کہ عراقی فورسز نے زمبر کے پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرلیا ہے اور مختلف سمتوں سے داعش کے خلاف پیشقدمی جاری ہے۔ واضح رہے کہ عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے عراقی فورسز کو گذشتہ روز تلعفر میں آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے پہلےعراق کی مسلح افواج نے شمالی شہر تلعفر میں فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نجار اور الحنش نامی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا۔ تلعفر کو اس وقت عراق میں داعش کا گڑھ اور شام اور عراق کے درمیان دہشت گردوں کی رفت آمد اور لاجسٹک سپورٹ کا اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت عراق کے تین شہروں تلعفر، حویجہ اور القائم پر داعش کا قبضہ ہے اور عراقی فوج کے جوان مذکورہ تینوں شہروں کو آزاد کرانے کے لیے مرحلہ وار پیشقدمی کر رہے ہیں۔ عراق کے صوبہ نینوا کا شہر تلعفر موصل کے مغرب میں پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس پر داعش کا قبضہ ہے۔ اس سے پہلے ہفتے کو عراقی ذرائع نے بھی خبردی کہ تلعفر کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیاں بہت جلد شروع ہونے والی ہیں جس میں سبھی فورسز منجملہ الحشد الشعبی بھی شامل ہو گی۔ پچھلے کئی روز سے تلعفر میں موجود داعش کے سرغنے بڑی تعداد میں اپنے ٹھکانے تیزی کے ساتھ تبدیل کر رہے تھے۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے سرغنے اپنےگھروالوں کو تلعفر کے باشندوں کے درمیان روپوش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔