تقريب خبررسان ايجنسی 3 Nov 2021 گھنٹہ 22:25 http://www.taghribnews.com/ur/interview/525477/شنگھائی-تعاون-تنظیم-میں-ایران-کی-رکنیت-یک-قطبی-دنیا-کے-اختتام-طرف-قدم-ہے -------------------------------------------------- ٹائٹل : شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت یک قطبی دنیا کے اختتام کی طرف قدم ہے -------------------------------------------------- ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خصوصیات کو عمومی سطح پر پہچانا جائے، کیونکہ – بطور مثال - ہم لاطینیت پرستی کو ایشیا میں نافذ نہیں کر سکتے، یا عربیت پرستی کو جنوبی افریقہ میں۔ مشترکہ اقدار کی ضرورت ہے۔ اسی وقت بہت ساری مشترکہ اقدار پائی جاتی ہیں؛ جنہیں آزاد و خود مختار ممالک اور اس عالمی تحریک کے راہنماؤں نے آشکارا بیان کیا ہے۔ متن : مشرق نیوز ڈاٹ آئی آر ترجمہ: فرحت حسین مہدوی "امریکی زوال" کے عنوان سے دوسرا عالمی سیمینار مصلحت نظام اسمبلی اور امام حسین (علیہ السلام) جامع یونیورسٹی کے زیر اہتمام منگل 2 نومبر 2021ع کو منعقد ہورہا ہے۔ اسی حوالے سے آسٹریلوی سیاسی اقتصاد دادن (Political Economist) ٹم انڈرسن (Tim Anderson)نے سیمینار سیکریٹریٹ کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے بعد کی دنیا اور اس کو درییش چیلنجوں کے بارے میں وضاحتیں کی ہیں۔ سوال: آپ کے خیال میں کیا اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ امریکہ کے بعد کی دنیا یا واشنگٹن کے بعد کی دنیا کے بارے میں بات کی جاسکتی ہے؟ جواب: جی ہاں! یقینا وہ وقت آن پہنچا ہے اور میرے خیال واشنگٹن کے بعد کی دنیا [نہ کہ امریکہ کے بعد کی دنیا] کے بارے میں بات کریں؛ کیونکہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ بر اعظم امریکہ کے دو تہائی لوگ ریاست ہائے متحدہ میں نہیں رہتے۔ اگرچہ ریاست ہائے متحدہ نامی ریاست اپنے آپ کو "امریکا" کا نام دیتی ہے، تاہم بر اعظم امریکہ میں 33 ممالک اور بھی جن میں ساٹھ کروڑ انسان رہتے ہیں؛ اور یہ صرف واشنگٹن کی ریاست ہے جس سے ہم اپنی دوری اور دنیا کے دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سوال: امریکہ کے بعد کی دنیا کو کس قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے؟ جواب: عام طور پر یک قطبی دنیا کے لئے کسی متبادل کے بارے میں بات چیت ہوتی ہے؛ ایسی دنیا جس پر صرف ایک بڑی طاقت مسلط ہو۔ اس سلسلے میں ریاست ہائے متحدہ، بالخصوص بیسویں صدی کہ نصف دوئم میں، خود بھی اپنے رقیبوں کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہے کیونکہ یہ رقباء امریکہ کی جگہ لے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود بیسویں صدی کے آخری برسوں اور موجودہ صدی میں، بہت بعید ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی طرح کی کوئی مسلط ریاست معرض وجود میں آئے۔ چنانچہ اس کے بعد دنیا کثیر قطبی (Multipolar) ہوگی؛ بالفآظ دیگر طاقت کے کئے بلاک اس وقت آپس میں بات چیت کررہے ہیں۔ چیلنج، جو اس وقت موجود ہے، یہ ہے کہ کیا اس مسئلے کا ادراک پایا جاتا ہے کہ "کیا یہ دنیا پسندیدہ (یا مطلوبہ) دنیا ہے؟"؛ "کیا لوگ واقعی ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جس میں یک قطبی دنیا یا استعمار (Imperialism) کی جگہ طاقت کے کئی بلاک موجود ہوں؟"؛ "کیا ایک مشترکہ زبان موجود ہے کہ ایشیا اور مغربی ایشیا اور افریقہ، لاطینی امریکہ اور حتی کہ یورپ کے لوگ اس زبان کے ذریعے آپس میں رابطہ قائم کریں؛ اور پھر تعاون کے لئے نیٹ ورکس قائم کریں اور یہ نیٹ ورک تسلط خواہانہ میکانزم (mechanism) پر غلبہ پاسکے وہ تسلط خواہانہ طریقہ ہائے کار جن کے ساتھ ہمیں کئی عشروں سے زندگی گذارنا پڑی ہے؟"۔ سوال: جن طاقتوں کی طرف آپ نے اشارہ کیا اور کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی ہیں (طاقت کے بلاک)؛ تو کیا آپ خاص قسم کے ممالک کو چند قطبی دنیا میں طاقت کے مراکز کے طور پر جانتے ہیں؟ جواب: عام طور پر کچھ علاقائی اور تہذیبی و ثقافتی نیٹ ورک پائے جاتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں "لاطینیت پرستی (Pan-Latinism)" پائی جاتی ہے، مشرق وسطی میں "عظیم عالم اسلام" ہے۔ افریقہ میں "افریقیت پرستی (Pan-Africanism)" ہے۔ ان مشترکہ قومی یا نسلی یا دینی مکاتب کی اپنی اپنی تعریف بھی ہے۔ مثال کے طور پر عربیت پرستی (Pan-Arabism) بھی ہے۔ ان بلاکوں کے درمیان ایک خاص سطح پر تعاون پایا جاتا ہے اور ان کی زبان مشترکہ ہے؛ اور پھر ہم آج براعظموں کے درمیان تعاون کو بھی دیکھ رہے ہیں جیسے ونزوئلا اور ایران اور کیوبا اور ایران کے درمیان تعاون۔ اس طرح کے روابط بہت زیادہ اہم ہیں جن کو مشترکہ اقدار اور مشترکہ زبان کہا جاسکتا ہے جس کے ذریعے تشکیل نو کے بارے میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔ سوال: آپ نے تہذیب و ثقافت کی طرف اشارہ کیا، تو کیا آپ کے خیال میں امریکہ کے بعد کی دنیا میں اہم ترین ثقافتی خصوصیات کیا ہیں؟ جواب: ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خصوصیات کو عمومی سطح پر پہچانا جائے، کیونکہ بطور مثال - ہم لاطینیت پرستی کو ایشیا میں نافذ نہیں کر سکتے، یا عربیت پرستی کو جنوبی افریقہ میں۔ مشترکہ اقدار کی ضرورت ہے۔ اسی وقت بہت ساری مشترکہ اقدار پائی جاتی ہیں؛ جنہیں آزاد و خود مختار ممالک اور اس عالمی تحریک کے راہنماؤں نے آشکارا بیان کیا ہے۔ بین الثقافتی خود مختار مشترکہ اقدار بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ میرے خیال میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون سی خاص ثقافت زیادہ اہم کردار ادا کررہی ہے؛ کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا، خاص ثقافتوں سے آگے جانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس اسی وقت مختلف ثقافتوں کے درمیان اس سطح کا تعاون پیشگی موجود ہے؛ مثال کے طور پر ونزوئلا اور ایران کے درمیان تعاون پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ دو ممالک ایک عشرے سے وسیع باہمی تعاون کر رہے ہیں؛ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ونزوئلا کی ثقافتی تاریخ اور ایران کی ثقافتی تاریخ بالکل مختلف ہیں؛ لیکن یہ اختلاف ان دو ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ اقدار متعارف کرانے نیز مضبوط تعاون اور تعلقات کے راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت اہم شعبہ ہے جس پر ہمیں اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال: آپ کے خیال میں امریکی بالا دستی کے دور کے بعد سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر کس طرح کی سیاسی تبدیلیاں آنے کا امکان ہے؟ بطور مثال ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ ایران لبنان کے لئے ایندھن بھجوا رہا ہے۔ دوسری طرف سے عالمی سطح پر امریکہ کو سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا ہے؛ اور ان چیلنجوں کا ایک واضح نمونہ افغانستان ہے۔ افغانستان سے قبل امریکہ کو شام اور عراق میں تقریبا اسی طرح کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس وقت عراقی پارلیمان نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ سے کہا کہ اپنی فوج کو اس ملک سے نکال دے۔ تو آپ کے خیال میں امریکہ کے بعد کی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر کس قسم کی تبدیلیاں آئیں گی؟ جواب: مغربی ایشیا، جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا، ہم نے بہت خوفناک جنگوں کو دیکھا ہے اور یہ جنگیں اس علاقے میں امریکی موجودگی کی بقاء کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ کئی دوسرے علاقوں میں بھی یہی صورت حال پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بر اعظم "یوریشیا" میں مشرقی ایشیا اور یورپ کے درمیان۔ اس علاقے میں امریکہ نے شکست کھائی ہے چنانچہ اس کا متبادل سامنے لانے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنا پڑیں گے؛ ابتداء میں مغربی ایشیا (اور مشرق وسطی) میں اور پھر پوری دنیا میں وسیع تر تحریکوں کے ذریعے۔ گو کہ ہمیں اس حوالے سے دوسرے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے جن میں امریکی ڈالر اور سویفٹ سسٹم شامل ہیں اور امریکہ ان دو کے ذریعے دوسرے ممالک کو سزا دینے کا امکان فراہم کرتا ہے اور خود مختار ممالک پر کا "معاشی محاصرہ" کرسکتا ہے جس کو وہ "معاشی مقاطعے" کا غلط نام دیتا ہے۔ لہذا مالیاتی تعاون کی نئی قسم بھی یہاں ضروری ہے: ایسا تعاون جو ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شریانوں کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس تعاون کی بعض ضروری وسائل و امکانات عظیم تر طاقتوں یعنی چین، روس اور ایران کو فراہم کرنا پڑیں گے۔ بہر صورت اس سلسلے میں اہم چیلنج موجود ہیں۔ سوال: حال ہی میں ایران شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہؤا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ مسئلہ کیا اسی کثیر قطبی دنیا کی طرف ایک قدم کی حیثیت رکھتا ہے؟ جواب: جی ہاں! شنگھائی تعاون تنظيم اس سلسلے کی بہت اہم تنظیم ہے؛ بطور خاص اس وجہ سے کہ اس میں روس، چین اور ایران اور مرکزی ایشیا کے بعض ممالک رکنیت رکھتے ہیں۔ بہت بڑا اور بہت اہم بلاک ہے جو تجارتی اور اقتصادی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مالیاتی تعلقات میں تبدیلی لانے کے اسباب بھی فراہم کرے۔ علاوہ ازیں، اس بلاک کے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی اور عسکری تعاون کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ اور پھر یہ بلاک بذآت خود تعاون کا طریقۂ کار ہے؛ بطور مثال "سلاک" (Spanish and Latin American Club [SLAC])۔ ریاست ہائے متحدہ اور کینیڈا کے سوا باقی امریکی ممالک کے درمیان کا سب سے بڑا بلاک ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی تنظیمیں بہت اہم ہیں۔ "برکس گروپ" (Brazil, Russia, India, China and S. Africa [BRICS]) بھی ہے جس کے اپنے منصوبے ہیں جن پر عمل ہو رہا ہے؛ "سلاک" تنظیم بھی پہلے ہی، یورپی اتحاد کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ یہ ایسی تنظمیں ہیں جن کی مدد سے دنیا اپنے آپ کو رفتہ رفتہ ایک قطبی نظام اور واشنگٹن پر حاکم ریاست کے تسلط سے نجات دلا سکتی ہے۔ سوال: آپ نے عبارت "نجات دلانا" سے استفادہ کیا جو میرے لئے دلچسپ تھی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں ریاست ہائے متحدہ کو اُس کثیر قطبی عالمی نظام سے مکمل طور پر حذف کرنا چاہئے؛ اس لئے کہ اس نے گذشتہ کئی عشروں سے تسلط پسندی کی پالیسی اپنا رکھی ہے جبکہ اس کے تسلط سے ہمیں ایک بھی مثبت ثمرہ نہیں مل سکا ہے۔ کیا آپ اگلی کثیر قطبی دنیا میں ریاست ہائے متحدہ کو بھی کوئی کردار دینے کے قائل ہیں یا آپ ہی کے بقول دنیا کو چاہئے کہ اس سے "نجات" حاصل کرے؟ جواب: یہ بہت اہم بحث ہے کہ کسی حد تک لاطینی امریکہ میں شروع ہوچکی ہے۔ لاطینی امریکہ میں ایسی دھاریں اور ایسے تفکرات ہیں جو ریاست ہائے متحدہ کی موجودگی میں ایک بلاک قائم کرنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں؛ لیکن زیادہ غالب رجحان یہ ہے کہ کم از کم عبوری دور میں - اور وہ بھی امریکہ کی مداخلت اور تسلط پر مبنی استعماری اور سامراجی کردار کی بنا پر - اس کی عدم موجودگی اور عدم رکنیت کا قائل ہے۔ اگر ریاست ہائے متحدہ ایک "معمولی" ملک ہوتا؛ اگر وہ دوسرے ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لئے تیار ہوتا، تو شاید یہ قصہ کچھ مختلف ہوتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصے کو اس ناہنجار اور بدشکل مخلوق کے ساتھ زندگی گذارنا پڑ رہی ہے جس کو "بین الاقوامی" تعلقات کا نام دیا گیا ہے اور اس مخلوق کو امریکہ نے خلق کیا ہے۔ چنانچہ میرے خیال میں - کم از کم ابتدائی مراحل میں، ضروری ہے کہ امریکہ کو بالادستی اور تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے والے ان بلاکوں سے الگ تھلگ رکھنا چآہئے؛ کیونکہ ہم ایسے بلاکوں کی بات کررہے ہیں جو تعاون اور ڈھانچوں کی ایسی نئی قسموں کی تعمیر کریں جنہیں تسلط پسندی کی غرض سے قابو میں نہ لایا جاسکے۔ سوال: حال ہی میں - بالخصوص ٹرمپ کے دور میں - ہم نے دیکھا کہ امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر فوجی شکستوں اور بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کے خیال میں امریکہ کے بعد کی دنیا کے قیام کی دوسری بڑی علامت کیا ہے؟ جواب: جیسا کہ آپ نے کہا، شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بلاک موجود ہیں، میں نے لاطینی امریکہ میں سلاک (SLAC) تنظیم کی طرف اشارہ کیا۔ یہ بین الاقوامی نیٹ ورکس کی ایک قسم کا سر آغاز ہیں جو طاقت کے نئے بلاکوں کو تشکیل دے سکتے ہیں، جو کسی ریاست کو کمزور کرسکیں یا گرا سکیں۔ امریکہ نے اس طر\ح کے نظام کو دنیا کے تمام نقاط پر تسلط جمانے کی غرض سے قائم کیا ہے۔ جو بھی ہو، امریکی افواج نے دنیا کو مختلف قسم کے بلاکوں میں تقسیم کیا ہے: مغربی ایشیا اور میں "سینٹکام" (CENTCOM) ہے؛ افریقہ یا شمالی افریقہ میں "افریکام" (AFRICOM) ہے۔ میرے خیال میں تسلط پسندی ان مراکز کو تتھر بتھر ہونا چاہئے؛ اور یہ عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ لیکن اس عمل کی تکمیل کے لئے ہمیں تعاون اور ہم آہنگی کے سلسلے میں بہت زیادہ مضبوط اور وسیع تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت، واشنگٹن بھی بہت سے خود مختار ممالک کی رگ حیات منقطع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یورپی ممالک جیسے بہت ممالک ایسے ہیں جو آزادانہ طور پر خود مختارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے خواہ وہ در حقیقت امریکہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ چنانچہ میرے خیال میں، ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید میکانزم اور مضبوط تر تعاون اور تعلقات قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ مغربی ایشیا کے حوالے سے زیادہ طاقتور علاقائی تنظیم نو اور تشکیل نو کی ضرورت ہے؛ کیونکہ چھوٹے ممالک خود کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ جو اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں، انہیں ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ سوال: بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دو طرف تضادات، مستقبل میں اس تنظیم کی کامیابیوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ مثال کے طور پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی نوعیت یا پھر تنظیم کے اندر کے دوسری دوئیتوں کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ اس تنظیم کا مستقبل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب: جب بعض طریقہ ہائے کار میں تبدیلی آئے، مثال کے طور پر اگر "بیلٹ اینڈ روڈ" جیسے بنیادی ڈھانچے کے میکانزم میں تبدیل آئے؛ دوسرے بھی اس منصوبے اور طریقہ کار میں شمولیت کی طرف مائل ہونگے یہ جب تجارت کے نئے مواقع پیدا ہونگے تو دوسرے بھی اس سے آ ملیں کے۔ ہم نے دیکھا کہ اکیسویں صدی کے آغاز پر عالمی تجارت تنظیم کے اندر چند فریقی مذاکرات ناکام ہوئے؛ کیونکہ سرمایہ کار وسیع سطح پر ناراض ہوچکے تھے اور زراعت اور دوسرے موضوعات کے سلسلے میں دوہرے معیار پائے جاتے تھے۔ وہ میکانزم اس وقت شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے اور ممالک [عالمگیریت کے بجائے] علاقائیت کی طرف مائل و راغب ہوچکے ہیں؛ اور یہ رجحان کسی حد تک بالادستی کے خلاف ہے۔ لیکن جب تبدیلی آتی ہے اور نئی تنظیمیں مثبت ایجنڈوں کے ساتھ ظہور پذیر ہو جاتی ہیں؛ پاکستان اور بھارت جیسے اہم علاقائی ممالک بھی ان میں رکنیت حاصل کرنے کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ تبدیلی جب تک کہ "سوچ" اور "نظریئے" تک محدود ہو، تو جو ممالک قلیل المدت سوچ کے حامل ہیں، وہ ان ہی تنظیموں ميں رہ جاتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں، لیکن جب نیا واقعات رونما ہوتا ہے اور نئی لہر اٹھتی ہے؛ ایسے افراد بھی ہیں جو تعاون کے کے ان نئے مواقع کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سوال: آپ کے خیال میں، یہ لہر اگر ایک "چینی" لہر ہو تو کیا ہوگا؟ چین بطور خاص معاشی حوالے سے ایک طاقتور ملک ہے تو اگر امریکہ کے بعد کی دنیا ایک چینی دنیا ہو تو اس کی خصوصیات کیا ہونگی؟ جواب: یہ وہی پیغام ہے جو امریکہ دنیا کو دے رہا ہے۔ امریکہ ہمیشہ اور ہر وقت دنیا کو اپنے رقیب اور مخالف کے طور پر دیکھتا ہے حال حاضر میں چین کے تئیں امریکہ کے مریضانہ نفسیاتی حسد کا ایک سبب یہی ہے؛ اور دیکھتا ہے کہ کونسا ملک اس کے متبادل کے طور پر سامنے آئے گا۔ لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ چین اس ہدف کے حصول کا خواہاں نہیں ہے؛ اگرچہ چین معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایک بڑی طاقت ہے اور ان نئی تنظیموں - بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم - کی بہت زیادہ مدد کرے گا۔ کم از کم حال حاضر میں، چین امریکہ کی طرح کی کسی تسلط پسندانہ حکمت عملی پر کاربند نہیں ہے، نہ تو پوری دنیا میں اس کے 800 فوجی اڈے ہیں، نہ کسی کو دھمکیاں دیتا ہے؛ بلکہ اپنے وزن اور صنعت و تجارت میں اپنی ترقی اور پیشرفت سے استفادہ کررہا ہے اور ان شعبوں میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے با وجود، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے برعکس، چین نے اپنے نئے تعلقات میں دو طرفہ احترام کو ملحوظ رکھا ہے۔ میرے خیال میں امر مسلّم ہے کہ چین امریکہ کے بعد کی دنیا میں بہت زیادہ اہم کردار ادا کرے گا۔ سوال: روس کا کیا کردار ہوگا؟ جواب: روس بھی ایسا ہی ہے۔ اتفاق سے روس وہی ملک ہے جہاں سے سنہ 1990ع میں کثیر قطبی دنیا کے نظریات نے جنم لیا۔ روس جیسا بھی ہو، در حقیقت وہی سابق سوویت اتحاد تھا جو ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا اور سنہ 1990ع کے عشرے میں اس کو ہولناک اقتصادی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے بچاؤ اور عالمی سطح پر اپنے لئے ایک نیا کردار تلاش کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ چنانچہ روس کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ لیکن میرے خیال میں روس یا چین امریکہ کے متبادل کے طور پر ایک بڑی استعماری طاقت بننے کے لئے کوشاں نہیں ہیں۔ یہ مسئلہ بالکل مختلف ہیں۔ البتہ دوسرے بڑے ممالک بھی ہیں جو اہم کردا ادا کریں گے؛ جن میں سے ایک ایران ہے جو مغربی ایشیا کا سب سے بڑا خود مختار اور مستقل ملک ہے جو بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران ایک استعماری ملک میں تبدیل ہوگا۔ بڑی طاقتوں اور استعماری طاقتوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ سوال: کیا ممکن ہے کہ امریکہ کے بعد کی دنیا امریکہ کے زوال کے بغیر معرض وجود میں آئے؟ جواب: نہیں! شمالی امریکہ، یا لاطینی امریکیوں کے بقول "ریاست ہائے متحدہ" کا زوال کئی عشروں سے - یا کم از کم 1980 کے عشرے کے وسط سے یا اس سے بہت پہلے سے - جاری ہے۔ اس زوال نے تسلط پسندانہ کاروائیوں، جنگوں، مداخلتوں، فوجی بغاوتوں، تشہیری جنگوں وغیرہ کے سلسلے مں امریکی صلاحیتوں کی شدید قلت و کمزوری سے جنم لیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا پڑے گا کہ تشہیری جنگیں اور امریکی ذرائع ابلاغ کے نیٹ ورکس بھی امریکی بالادستی اور تسلط پسندی کے اہم اوزار ہیں؛ جن کے ذریعے سننے، دیکھنے اور پڑھنے والوں کے ذہنیتوں اور افکار کی نوعیت، ان کے معلوماتی ذرائع، اور خیالات و نظریات پر تسلط جمایا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اس شعبے میں ہنوز طاقتور ہے، لیکن عرصۂ دراز سے معاشی لحاظ سے زوال پذیر ہوچکا ہے۔ اور ریاست ہائے متحدہ کی صلاحیتوں کی یہ کمزوری ایران، چین اور روس کے لئے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، کہ وہ آ کر دنیا میں تبدیلی لانے کے لئے اقدام کریں، طاقت کے نئے بلاکوں کے قیام میں نیا کردار ادا کریں جس کی وجہ سے واشنگٹن کے شریرانہ اثر و رسوخ کمزور اور محدود ہوگا۔ آخری سوال: آپ کے خیال میں عوام کا کیا کردار ہوگا؟ متعلقہ اقوام کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے؟ جواب: اچھا سوال ہے۔ میرے خیال میں بہت اہم بات ہے اور ہم نئی دنیا کی تشکیل کے حوالے سے اس کے چشم براہ بھی ہیں اور اس کے بارے ميں بات چیت اور تبلیغ و ابلاغ کرنے کا آغاز کرنا چاہئے اور مجھے امید ہے کہ ہم "عظیم تر معاشروں" کی تشکیل کے نظریئے کو عملی جامہ پہنائیں جس میں لوگ بھی کردار ادا کرسکتے ہيں۔ صدیوں سے انگلو-امریکی لبرلزم دوسروں کو نکال باہر کرکے، صرف خاص لوگوں کے کردار پر زور دے رہا ہے۔ لبرلزم کے دعویدار جن آزادیوں کی تشہیر کررہے ہیں، صرف خاص لوگوں اور خاص گروہوں اور جماعتوں کی تسلط پسندی کی آزادی تک محدود ہے۔ "یکسان" اور "مساوات سے بھرپور" دنیا، جس کا وہ دعوی کررہے تھے - ایک کھوکھلا نعرہ ہے۔ چنانچہ ہم جس دنیا کا قیام چاہتے ہیں اس کی بہت اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام لوگ شامل ہونگے اور وہ ایک عام ہمہ شمول دنیا ہے۔