تقريب خبررسان ايجنسی 25 ارديبهشت 1398 گھنٹہ 18:01 http://www.taghribnews.com/ur/news/420319/یمن-جنگ-کا-تاوان-سعودی-اتھاد-کو-بھی-ادا-کرنا-پڑے-گا -------------------------------------------------- ٹائٹل : یمن جنگ کا تاوان سعودی اتھاد کو بھی ادا کرنا پڑے گا یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو متنبہ کیا ہے۔ -------------------------------------------------- یمن پر مسلط کردہ جنگ میں ان کی شکست یقینی ہے اور یمن پر مسلط کردہ جنگ کے شعلے سعودی عرب اور امارات تک بھی پہنچیں گے متن : یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو متنبہ کیا ہے۔ اسپوٹنک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کے رہنما محمد البخیتی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں ان کی شکست یقینی ہے اور یمن پر مسلط کردہ جنگ کے شعلے سعودی عرب اور امارات تک بھی پہنچیں گے۔ محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال یمنی فوج کی تجویز پر سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کو روک دیا گیا تھا تاکہ اس طرح سعودی عرب اور امارات یمن کے خلاف مسلط کردہ جنگ کو روک لیں لیکن انھوں نے یمن کے خلاف جنگ بندی کے بجائے اس کی شدت میں اضافہ کردیا اوران حملوں میں اضافہ ہوا اور دشمن نے ہماری امن کی کوششوں سے غلط فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے وہی پہلے والی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب اور امارات کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یمن کی فوج نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے یَنبُع کے قریب سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون طیاروں سے حملہ کیا۔ سعودی عرب کے وزیر تیل خالد الفالح نے کہا ہے کہ یَنبُع سے الشرقیہ کے درمیان پائپ لائن کے ذریعے تیل کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی نے بھی ایک سیکورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ریاض کے علاقے میں قائم ملک کی سب سے بڑی تیل کی تنصیبات کے دو پمپنگ اسٹیشنوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی وزیر تیل نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ اس سے پہلے یمن کے المسیرہ ٹیلی ویژن نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یمنی فوج کے سات ڈرون طیاروں نے سعودی عرب کے اندر تیل اور دیگر صنعتی تنصیبات کو حملوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔