تقريب خبررسان ايجنسی 3 مرداد 1399 گھنٹہ 16:39 http://www.taghribnews.com/ur/news/470296/پاراچنار-طوری-مارکیٹ-دھماکہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاراچنار،طوری مارکیٹ دھماکہ -------------------------------------------------- متن : کل جمعرات کو پاکستان کا شمال مغربی سرحدی علاقہ پاراچنار ایک بار پھر ایک زوردار دھماکے سے لرزر اٹھا۔ دھماکہ دن کے وقت چار بجے پاراچنار شہر کے اندر واقع ایک مصروف علاقے طوری مارکیٹ میں ہوا۔ جس کے نتیجے میں 17 افراد زخمی ہوگئے۔ جن میں سے 10 سالہ بچے ثقلین کو نازک حالت میں ابتدائی طبی امداد کے بعد پشاور پہنچا دیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں اطراف میں موجود گاڑیوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ڈی ایس پی نجف علی کا کہنا ہے کہ دھماکہ آئی ای ڈی کے ذریعے کرایا گیا ہے۔ جسے سبزی کی ایک ریڑھی میں نصب کیا گیا تھا۔ تاہم موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ مواد سبزی کی ریڑھی میں نہیں بلکہ سبزی کے کریٹ میں نصب کیا گیا تھا، جبکہ دھماکے کے وقت وہ کریٹ ریڑھی میں نہیں بلکہ ریڑھی کے ساتھ سڑک پر رکھا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہدھماکہ خیز مواد کی مقدار نسبتاً کم تھی۔ جس کا پتہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک تو دھماکے کی آواز کافی کم تھی۔ دوسری بات یہ کہ دھماکے کے نتیجے میں نقصان بھی نسبتاً کم ہوا ہے۔ حالانکہ سبزی کی ریڑھیوں کیوجہ سے یہاں ہر وقت بہت رش رہتا ہے۔ انداز ہے کہ ریڑھی کے مالک چھوٹے بچے ثقلین کو اجرت پر سامان دیکر روانہ کیا گیا۔ وقوعہ پر پہنچ کر سامان کے مالک کے انتظار میں دھماکے کا شکار ہوگیا۔ بہر صورت دھماکہ خیز مواد سبزی کے ایک کریٹ میں نصب تھا۔ جسے دھماکے کے وقت ریڑھی سے اتار کر زمین پر رکھا گیا تھا۔ موقع پر موجود رضاکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔ تاہم ریڑھی میں سبزی فروخت کرنے والے غریب بچے کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے اسے فوری طور پر پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قیصر عباس بنگش نے کہا کہ اس وقت تک 16 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم مشتعل ہجوم نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ خیال رہے کہ دھماکے کے بعد پاراچنار شہر کے اندر واقع چیک پوسٹوں پر متعین فوجیوں نے اپنے علاقے کو فوری طور پر خالی کر دیا ہے۔ دوسری جانب پاراچنار کے رہائشی جوانوں نے واقعے کے خلاف پاراچنار پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔ اس موقع پر جوانوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کیا۔ پریس کانفرنس سے سر زاہد حسین طوری، مجاہد حسین طوری، روشن علی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ درجنوں سکیورٹی اداروں کے ہوتے ہوئے پاراچنار نے کبھی امن کی فضا نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ طوری بنگش اقوام کو نشانہ بنانے میں خود انتظامیہ ہی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈی پی او سمیت کرم کے تمام کرپٹ افسران کا محاسبہ کرکے انہیں سزا دی جائے۔ نیز طوری بنگش قبائل کو ان کے جائز حقوق فوراً دلائے جائیں، تاکہ علاقے کا امن و امان برقرار رہ سکے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ بالش خیل شاملات کا مسئلہ کرم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، علاقے کے امن و امان کا ضامن یہی مسئلہ ہے، چنانچہ اسے فوری طور پر حل کرایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی حقوق کی خاطر آواز بلند کرنے کی پاداش میں ان کے رہنماؤں پر درج ناجائز ایف آئی آر کو فوراً خارج کیا جائے۔ خیال رہے کہ بالش خیل جنگ کے فوراً بعد وقوعہ سے 10 کلومیٹر دور ایک مقامی متعصب ایس ایچ او نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر طوری قبائل کے رہنماؤں پر ناجائز ایف آئی آر کاٹی ہے۔ جس میں اس نے ایک نہیں بلکہ کئی دفعات لگاکر جارح کے بجائے مظلوم فریق کو ظالم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، جس کے خلاف عرصہ ایک ماہ سے سمیر میں دھرنا جاری ہے۔ 50 ہزار سے زائد آبادی کے حساس قبائلی علاقے پاراچنار میں گذشتہ چار سال سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر کے اندر کا انتظام فوج نے سنبھال رکھا ہے۔ شہر کے ایک مخصوص علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جاچکا ہے۔ جہاں مخصوص ریڈ زون پاس کی حامل گاڑیوں کے علاوہ کسی کو جانے نہیں دیا جاتا۔ علاقہ فوجی چھاونی کا منظر ہیش کرتا ہے۔ اس کے باوجود پاراچنار میں نصف درجن کے قریب دھماکے ہو چکے ہیں۔ ایک ماہ قبل بھی یہاں ایک کچرے کے ڈرم میں بم نصب کرکے دھماکہ کرایا گیا۔ جس سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچ گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 23 جون 2017ء کو یوم القدس کے فوراً بعد اسی علاقے میں یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں 67 افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے چند ماہ قبل ہی امام بارگاہ کے قریب کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ اس سے قبل یعنی فوجیوں کے چارج سنبھالنے سے قبل تو ایک درجن کے لگ بھگ دھماکے ہوچکے ہیں۔ دھماکے کے حوالے سے انتہائی عجیب بات یہ ہے کہ دھماکے کرانے والوں کی تمام تفصیلات نیز ان کے مقامی سہولتکاروں کی پوری تفصیل جاننے کے باوجود مقامی انتظامیہ نےآج تک مجرموں کو نہ تو کوئی سزا دی اور نہ ہی کبھی انہیں منظر عام پر لائی ہے۔ خیال رہے کہ کل جمعرات ہی کے دن 3 بجے طوری قبائل کے جوانوں اور بچوں نے اہلیان بالش خیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر لوئر کرم کے علاقے چنار آباد سے ایک عظیم ریلی نکالی۔ جو پشاور پاراچنار مین روڈ سے ہوتی ہوئی سمیر عباس زیارت پہچ گئی۔ مظاہرین اپنے حقوق کے حصول کے لئے نعرے لگا رہے تھے اور تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمیر عباس کے مقام پر عرصہ ایک ماہ سے دھرنا دینے والے اہلیان بالش خیل کے ساتھ شامل ہوکر جلسے کی شکل اختیار کرلی۔ جلسے سے مختلف مقررین نے خطاب کیا اور دھرنا دینے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر صحافیوں کے علاوہ عمائدین کی بھی ایک خاصی تعداد موجود تھی۔ خیال رہے کہ اہلیان بالش خیل سیز فائر کے تیسرے دن احتجاجاً اپنے گھروں سے نکل گئے ہیں اور گھروں کی چابیان احتجاجاً سرکار کے حوالے کرکے خود بچوں اور خواتین سمیت کھلے آسمان تلے سمیر میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔