تقريب خبررسان ايجنسی 21 اسفند 1397 گھنٹہ 21:17 http://www.taghribnews.com/ur/news/408614/پاک-ایران-تعلقات -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاک ایران تعلقات  وزیر اعظم ایران کا دورہ کریں -------------------------------------------------- بھارت کے پاکستان پر حملہ کرنے کے بعد جب اسرائیل کے اس حملہ میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت منظر عام پہ آئے تو پاکستان نے مناسب سمجھا کہ اپنے برادر اسلامی ملک ایران کو اعتماد میں لیا جائے متن : پاک ایران تعلقات تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی وزیر اعظم ایران کا دورہ کریں. بھارت کے پاکستان پر حملہ کرنے کے بعد جب اسرائیل کے اس حملہ میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت منظر عام پہ آئے تو پاکستان نے مناسب سمجھا کہ اپنے برادر اسلامی ملک ایران کو اعتماد میں لیا جائے. اس لیے شیخ رشید وفاقی وزیربرائے ریلوے کو وزیراعظم عمران خان نے اپنا خط دیکر ایران بھیجا.اس کے بعد گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا. تمام اخبارات نے وزیراعظم پاکستان اورایرانی صدر حسن روحانی کی ٹیلیفونک گفتگو اپنی شہ سرخیوں کے ساتھ لگائی.یقینا یہ بہت ہی اہم اور خوش آیند خبر ہے. دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط و مستحکم رکھنے پر اتفاق کیا ہے.وزیراعظم پاکستان نے ایران میں گزشتہ ماہ ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ پر ایرانی صدر سے اظہارافسوس کیا ہے.دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹیلی جینس کے اداروں کو آپس میں قربت بڑھانی چاہیے.وزیراعظم نے کشمیریوں کی حمایت پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا. میرے خیال میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت پاکستان کے لیے اس وقت نہایت ناگزیر ہے.اس مقصد کے حصول کے لیے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو فورا ایران کا دورہ کرنا چاہیے.اس سے پاکستان کو ہر لحاظ سے بہت فائدہ ہوگا. آجکل اینٹی ایران لابی پاکستان میں بہت متحرک ہے اور بہت سے مستند حقائق کو جھٹلانے پر کمربستہ ہے.ہمارے بہت سے سادہ لوح ساتھی ان چالبازوں کی جھوٹ پر مبنی تحاریر کو حقیقت سمجھ کر اپنی وال پر چپکا رہے ہیں.میں ان دوستوں سے گزارش کروں گا کہ وہ ان طاغوت کے زر خرید جھوٹےغلاموں کا بالکل اعتبار نہ کریں. اصل حقائق ہر جگہ دستیاب ہیں انکا مطالعہ کیا جائےاور اس کے مطابق اپنی فیس بک پر پوسٹیں لگائی جائیں ورنہ انسان کی اپنی ثقاہت متائثر ہوتی ہے.میں پہلے بھی ایران کے حوالے سےچند مستند حقیقتوں کو بیان کر چکا اور مزید اپنے دوستوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں. سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت ہی گہرے اسلامی ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں.جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے ہمیں تسلیم کیا.قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم نےایران میں پاکستان کا سفارت خانہ کھول کرمضبوط تعلقات کی بنیادرکھی. 1965 کی جنگ میں جب امریکہ نے ہمیں دھوکا دیا تو ایران ہی وہ واحد ملک تھا جس نےدام درھم سخن پاکستان کی مدد کی.ان آزمائش کی گھڑیوں میں پاکستان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے والا ایران ہی تھا.65 کی جنگ میں ہم فوجی اعتبار سے بہت کمزور تھےایران نے ہمارے طیاروں کو بچانے کے لیے اپنے فوجی اڈے ہمیں فراہم کیے.یہ کتنی غلط بیانی ہے کہ کوئی کہے بھارتی طیارے ایران سے اڑ کر پاکستان پر حملہ کرتے تھے.لعنت اللہ علی الکاذبین 71 کی پاک بھارت جنگ میں ایران نے کھلے لفظوں میں روس اور امریکہ کو بتایا کہ پاکستان پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہوگا.اس حقیقت کو تاریخ کا مطالعہ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ جب بنگلہ دیش ہم سے جدا ہو تو ایران نے اسے اس وقت تک اسے تسلیم نہیں کیا جب تک ہم نے اسے تسلیم نہیں کیا. یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارا دینی اور مذہبی لیٹریچر عربی سے زیادہ فارسی زبان میں ہے جو ایران کی قومی زبان ہے.اسلامی برصغیر پر حکومت کرنے والے اکثر بادشاہوں کا تعلق ایران سے تھا.سو ہم ایران کے ساتھ گہرے اسلامی ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں میں مربوط ہیں. ایران اسلامی دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس نے ہرخطے میں کمزور اور مظلوم مسلمانوں کی ہر طرح مدد کی ہے اور ہنوز کررہاہے.فلسطینی مظلوم ہوں یا یمن کے لاچار مسلمان,عراق شام ہر جگہہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران ظالموں کے سامنے کھڑا ہے.اسلامی دنیا میں امریکہ کہیں براہ راست اور کہیں اپنے گماشتوں کے ذریعے ظلم ڈھا رہا ہے.امریکہ کے مقابلہ میں ہمیں ان مظلوموں کی مدد کےلیے ایران ہی نظر آتا ہے.امریکہ ایران کو ان خطوں سے نکالنا چایتا ہے. اس مقصد کے حصول کے لیے وہ مسلمان ریاستوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے اسی لیے اس نے سعودی عرب سےملکر 42 اسلامی ملکوں کی فوج کو ملا کر ایک اتحاد تشکیل دیا ہے.امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل ایران کے خلاف متحد ہوں مگر سعودی عرب کے لیے فی الوقت یہ کام کرنا مشکل ہے. اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی ایک بڑی اکثریت اگرچہ ایران کے ساتھ کھل کر نہیں ہے مگر اسرائیل کے مقابلے میں وہ ایران کے ساتھ ہیں.مسلمان ممالک میں انڈونیشیا,بنگلہ دیش قطر,ملائیشیا صومالیہ اور الجزائیر جیسے اسلام