تقريب خبررسان ايجنسی 24 اسفند 1397 گھنٹہ 11:57 http://www.taghribnews.com/ur/news/409054/نیوزیلینڈ-میں-مسلمانوں-کے-خلاف-تاریخ-کی-بدترین-دہشتگردی -------------------------------------------------- درجنوں مسلمان نمازی شہید اور زخمی ٹائٹل : نیوزیلینڈ میں مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی بدترین دہشتگردی جدید ہتھیاروں سے لیس حملہ آورنے اپنی ہولناک فائرنگ کی لائیو وڈیو ریکارڈنگ بھی کی -------------------------------------------------- نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازی شہید اورمتعدد زخمی ہوگئے جب کہ مسجد میں موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم اس حملے میں بال بال بچ گئی متن : نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازیشہید اورمتعدد زخمی ہوگئے جب کہمسجد میںموجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ کی 2 مساجدالنور اورلینوڈ میں فوجی وردی میں ملبوس28 سالہ انتہا پسند آسٹریلوی سفید فام برینٹن ٹیرنٹ کیفائرنگ سے 40 افراد جاں بحق اورمتعدد زخمی ہوگئے جب کہ وہاں دورہ پرموجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بھی اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلوی شہری ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مساجد پر حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔ مسلح شخص کی جانب سے فائرنگ نماز جمعہ کے دوران کی گئی۔ مزید چارافراد کو حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس حملہ آورنے اپنی ہولناک فائرنگ کی لائیو وڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔ نیوزی لینڈ پولیس نے شہریوں کو متاثرہ مسجد سے دور رہنے کی ہدایت کردی ہے، کرائسٹ چرچ کی دیگر مساجد خالی کرالیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق شہر کے گرجا گھر اور اسکول بھی بند کردیئے گئے۔ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور بتایا کہ 10 افراد لین ووڈ مسجد جبکہ 30 افراد ہیگلے پارک کے نزدیک ڈینز ایو کی مسجد میں جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے ہلاکتوں اور 4 گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں میں 2 بم بھی منسلک تھے جنہیں ناکارہ بنادیا گیا۔ دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں ایک آسٹریلوی شہری بھی شامل ہے جو انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اے پی کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے، حملے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ خطرے کے پیش نظر نماز کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو مساجد نہ جانے کا بھی کہا گیا، اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ہم اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بارے میں پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حالات کے پیشِ نظر شہر کے تمام اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی جسے پولیس حکام کی جانب سے دل دہلا دینی والی قرار دینے کے بعد شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر 45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔ حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد سے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا، فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔ ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرف بھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی ہے۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہونے والی تھی۔ حکام کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ جس کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ کرائسٹ چرچ میں کل ہونے والا ٹیسٹ میچ منسوخ کردیا گیا۔