تقريب خبررسان ايجنسی 4 فروردين 1399 گھنٹہ 21:56 http://www.taghribnews.com/ur/news/456151/شھید-سردار-قاسم-سلیمانی-کی-تشیع-جنازہ-وحدت-کا-مظھر-تھی -------------------------------------------------- ٹائٹل : شھید سردار قاسم سلیمانی کی تشیع جنازہ وحدت کا مظھر تھی یونیورسٹی برای مذہبی علوم کی علمی انجمن کے رکن " حامد رستمی نجف آبادی" نے کہا -------------------------------------------------- شھید سردار قاسم سلیمانی کی مراسم تشیع قوم و ملت کے درمیان حقیقی اتحاد اور وحدت کا مظھر تھی۔ تھران میں ہر قوم و مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد جمع تھے۔ متن : شھید سردار قاسم سلمانی کی تشیع جنازہ وحدت کا مظھر تھی تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یونیورسٹی برای مذہبی علوم کی علمی انجمن کے رکن " حامد رستمی نجف آبادی" نے تقریب کے خبرنگار سگفتگو کرتے ہوئے کہا " شھید سردار قاسم سلیمانی کی مراسم تشیع قوم و ملت کے درمیان حقیقی اتحاد اور وحدت کا مظھر تھی۔ تھران میں ہر قوم و مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد جمع تھے۔ شھید کے لیے جو پروگرام مشھد قم، تھران میں انجام دیے گئے وہی پروگرام سیستان و بلوچستان میں بھی انجام دیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا ، سیستان و بلوچستان اور خراسان جنوبی میں مختلف اہل تسنن مساجد میں بھی شھید کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیے گئے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی جس قدر آج کے زمانے میں ضرورت ہے اس سے قبل کسی زمانے میں نہیں تھی۔ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے ترقی کے لیے وحدت اثاثی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ دشمن اسلام مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنے کے لیے تمام تر وسائل کو استعمال کررہا ہے اور شیعہ اور سنی دونوں مذہاب کے مانے والوں میں اپنے ایجنٹ قرار دیے ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں۔ ایک تکفیری فکر ہے تو دوسری جانب افراطی فکر یہ دونوں ہی اسلام کے لیے خطرہ ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ان تمام تر مشکلات کو حل کرسکتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو برقرار کرنے کے لیے بزرگ علماء جن میں علماہ محمد تقی قمی، امام موسی صدر، سید جمال الدین اسد آبادی، شیخ محمود شلتوت وغیرہ کی سیرت کو بیان کیے جانے کی ضرورت ہے جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان ھمیشہ ہی وحدت کو فروغ دیا ہے۔ اس مقصدکے حصول کے لیے ٹی وی پروگرامز تشکیل دیے جانے چاہیے جن میں مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے اشترکات کو بیان کیا جانا چاہیے۔