تقريب خبررسان ايجنسی 18 اسفند 1397 گھنٹہ 14:56 http://www.taghribnews.com/ur/news/407605/سی-د-جمال-الدین-کی-فکر-سرحدوں-سے-وراء-تھی -------------------------------------------------- ٹائٹل : سیّد جمال الدین کی فکر سرحدوں سے ما وراء تھی آپ کی فکر کسی بھی سرحد اور مرز سے بالاتر اور ماوراء تھی -------------------------------------------------- دشمن آپ کی سرگرمیوں سے خوفزدہ تھا اور یہی خوف باعث بنا کہ سید جمال الدین کو شہید کردیا گیا۔ متن : سیّد جمال الدین کی فکر سرحدوں سے ما وراء تھی تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق "سیّد جمال الدین ابن صفدر ابن سیّد علی " 1254 قمری ھجری میں ھمدان کے ایک گاؤں اسد آباد میں پیدا ہوئے، آپ کی فکر کسی بھی سرحد اور مرز سے بالاتر اور ماوراء تھی اور آپ اسلام کی سربلندی کے لیے تنہا ہی اٹھ کھڑے ہوئے آپ نے اسلام کی خدمت میں جان و مال کی بھی پروا نہیں کی، اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کوششیں شروع کردی۔ اسلام کی خدمت کی راہ میں آپ پر مختلف قسم کی تہمتیں اور جھوٹ منسوب کیے گئے تاکہ آپ کو اسلام کی خدمت سے روکا جاسکے لیکن آپ نے کسی بھی چیز کی پروا ہیں کی۔ سیّد جمال الدین کو جن باتوں نے سب سے زیادہ رنجیدہ خاطر کیا ان میں سے درج ذیل آپ کے سامنے بیان کی جارہی ہیں۔ استبدادی اور استکباری سوچ کے حکام مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں انحراف اور خرافات کا شمول مسلمانوں کے درمیان تفرقہ مغربی طاقتوں کا ملک میں ناجائز اثر ورسوخ سیّد جمال الدین نے اپنی تحریک کا آغاز مصر سے کیا 1296 قمری ھجری میں آپ نے مصر میں 8 سال قیام کیا اور وہی سے ہی دشمن اسلام سے مقابلے کے لیے اپنی تحریک کا آغاز کیا، جمال الدین نے اس کام کے لیے مختلف علمی نشستین اور اجلاس منعقد کیے۔ سید جمال الدین کی اصلاحی فکر کے بنیادی نکات کچھ اس طرح سے ہی۔ اسلام کی اساس افراط اور تفریط سے دور ہے اسلام نا ہی شدّت پسندی کو پسند کرتا ہے اور نا ہی ناجائز ظلم کو قبول کرتا ہے۔ علماء اراکین مبارزہ کو تشکیل دیں مناسب وقت میں معاشرے میں موجود انحرافات کو کنٹرول کیا جائے اور اسلامی معاشرہ مجاہدانہ ہونا چاہیے۔ اسلام وہ دین ہے جس کو اگر درست بیان کیا جائے تو ہر کوئی اسلام کو صمیم قلب سے قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ سید جمال الدین دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے تھے یہی وجہ ہے وہ اسلام کے دوستوں اور دشمنون کو با خوبی پہچانتے تھے، ان کو عالم اسلام کی سرحدی اور جغرافیائی صروتحال بہت ہی زیادہ پریشان کیے ہوئے تھی ،دشمن آپ کی سرگرمیوں سے خوفزدہ تھا اور یہی خوف باعث بنا کہ سید جمال الدین کو شہید کردیا گیا۔ ظاھرا آپ کی شہادت کو لوگوں نے طبیعی موت قرار دیا لیکن حقیقت میں آپ کو زہر دے کر شہید کیا گیا تھا۔