تقريب خبررسان ايجنسی 3 مرداد 1399 گھنٹہ 16:48 http://www.taghribnews.com/ur/news/470299/عراق-کے-وزیر-اعظم-کا-تہران-دورہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : عراق کے وزیر اعظم کا تہران دورہ، -------------------------------------------------- ایران اور عراق کے تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ عراق میں حکومتوں کی تبدیلی انھیں متاثر نہیں کرسکتی۔ متن : عراق کے وزیر اعظم کا تہران دورہ، جو وزیر اعظم بننے کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی سفر ہے، بہت سے اہم پیغامات دیتا ہے، جن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایران اور عراق کے تعلقات خراب کرنے کی امید کر رہے تھے، بری طرح مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔ مصطفی الکاظمی عراق کے وزیر اعظم بننے کے بعد کچھ ممالک، جن میں امریکا اور سعودی عرب سب سے آگے ہیں، دو دوست ممالک عراق اور ایران کے مابین تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ عراقی وزیر اعظم کا تہران کا دورہ اور سیاسی، معاشی، سلامتی اور صحت کے شعبوں میں اس کے اہم نتائج نے یہ ثابت کیا کہ ایران اور عراق کے تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ عراق میں حکومتوں کی تبدیلی انھیں متاثر نہیں کرسکتی کیونکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات اور چیلنجز ہیں۔ ایران نے حالیہ برسوں اور دہائیوں میں ثابت کیا ہے کہ یہ ایک ایسا بنیادی رکن ہے جس پر بحرانوں اور مشکلات میں بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے ملاقات کے دوران رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا بیان عراق کی حمایت سے متعلق ایران کی مضبوط پالیسی پر زور دیتی ہے جسمیں انہوں نے کہا ایران، مستحکم اور خودمختار عراق دیکھنے کا خواہاں ہے مضبوط اور خودمختار اور داخلی یکجہتی سے ہماہنگ عراق۔ انہوں نے اسی طرح یہ بھی کہا کہ ایران کبھی بھی امریکہ کے ساتھ عراق کے تعلقات میں مداخلت نہیں کرے گا، لیکن عراقی دوستوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کو صحیح طور پر پہچان لیں گے اور سمجھیں گے کہ کسی بھی ملک میں امریکہ کی موجودگی اس ملک کے لیے تباہ کن ہے۔ یہ ہوتا ہے. رہبر انقلاب نے یہ بھی فرمایا کہ ایران کو امید ہے کہ عراقی حکومت، عوام اور پارلیمنٹ کے فیصلے کا پاس رکھتے ہوئے اپنے وطن سے امریکی فوجیں نکالنے کے فیصلے کو عملی شکل دے گی کیونکہ ان کی موجودگی سے سلامتی اور استحکام کو ٹھیس پہنچتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ان واضح اور ٹھوس جملوں سے عراق میں ایران کے کردار اور عراق میں بہت سے لوگوں کی جانب سے توازن کی پالیسی کو لے کر کیے جانے والے بہت سارے سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے روشن مستقبل کا خاکہ کھینچ دیا ہے۔ ان سب کے درمیان وہ ممالک جو ایران اور عراق کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش میں لگے تھے یا آرزو کیا کرتے تھے وہ اپنا سا منھ لے کر رہ گئے اور اب دوسری چالبازیوں میں مصروف ہونگے۔